بھارت

راہل گاندھی کی امریکہ کے ساتھ معاہدے پرمودی حکومت پرکڑی تنقید

حکومت نے بھارت کو بیچ دیاہے، راہل گاندھی

نئی دلی:
بھارت میں کانگریس پارٹی کے رہنماء اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بھارت امریکہ تجارتی معاہدے پر مودی حکومت کوکڑی تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ حکومت نے بھارت کو بیچ دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق راہل گاندھی نے لوک سبھا میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ مودی حکومت نے ا،مریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کیلئے ملکی مفادات پر سمجھوتہ کیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ”دراصل مودی حکومت نے بھارت ماتا کو بیچ دیا ہے”۔انہوں نے الزام لگایا کہ اس سچائی کو تسلیم کرنے کے باوجود حکومت نے امریکہ کو توانائی اور مالیاتی نظام کو اس طرح ہتھیار بنانے کی اجازت دی ہے جس کا اثر بھارت پر پڑ رہا ہے۔راہل گاندھی نے کہا کہ جب امریکہ کہتا ہے کہ ہندوستان کسی خاص ملک (روس)سے تیل نہیں خرید سکتا تو اس کا مطلب ہے کہ ہماری توانائی کی حفاظت کا فیصلہ باہر سے کیا جا رہا ہے، کہ توانائی کو ہی ہمارے خلاف ہتھیار بنایا جارہا ہے۔مودی حکومت پر طنز کرتے ہوئے راہل گاندھی نے سوال کیا کہ کیا حکومت کو امریکہ کے ساتھ اس توہین آمیز معاہدے پر شرمندہ نہیں ہونا چاہیے؟کانگریس لیڈر نے کہا کہ پی ایم مودی پر بیرونی دبائو ڈالا جا رہا ہے، ان آنکھوں میں خوف صاف ظاہر ہے۔امریکی ٹیرف پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ اوسط ٹیرف تقریبا تین فیصد سے بڑھ کر 18فیصد ہو گیا ہے، جو چھ گنا زائد ہے۔ انہوں نے مزید دعوی کیا کہ ہندوستان میں امریکی درآمدات 46بلین ڈالر سے بڑھ کر 146بلین ڈالر تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔انہوں نے اس صورتحال کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے تحت بھارت کوئی پختہ یقین دہانی حاصل کئے بغیر امریکہ سے ہر سال درآمدات میں تقریبا 100 بلین ڈالر کا اضافہ کرنے کا وعدہ کر رہا ہے۔ راہل گاندھی نے کہاکہ ہم رعایتیں دے رہے ہیں، لیکن بدلے میں ہمیں کچھ نہیں مل رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم بے کار ہیں۔ ہمارا ٹیرف تین فیصد سے بڑھ کر 18 فیصد ہوگیا جبکہ امریکی ٹیرف مبینہ طور پر 16 فیصد سے کم ہو کر صفر ہو گیا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button