بھارت کا یکطرفہ طورپر سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا دعوی قابل مذمت ہے، محمد سلیم شیخ
اسلام آباد:
وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے ترجمان اور ماہرِ ماحولیات و آبی وسائل محمد سلیم شیخ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا دعویٰ انتہائی قابلِ مذمت اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق محمد سلیم شیخ نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 1960 میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور کسی بھی فریق کو اسے یکطرفہ طور پر منسوخ یا تبدیل کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ پانی کسی ایک ملک کا داخلی معاملہ نہیں بلکہ یہ خطے کی سلامتی، استحکام اور پائیدار ترقی کا بنیادی جزو ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت نے گزشتہ سال جون میں بھی واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان کی رضامندی کے بغیر بھارت معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حصے کے پانی میں کسی بھی قسم کی کمی ملکی زرعی نظام، غذائی تحفظ اور علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ بھارت کی حالیہ کوششیں پانی کو سیاسی اور عسکری ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی واضح مثال ہیں جسے پاکستان کسی صورت قبول نہیں کرتا۔محمد سلیم شیخ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کے تحت پاکستان کو سندھ ، جہلم اور چناب کے قدرتی بہا ئوکی ضمانت دی گئی ہے، نہ کہ کسی مخصوص مقدار کی، حالیہ مصنوعی مداخلتیں آبپاشی کے نظام، ایگریکلچرل سائیکلز اور ملکی ماحولیاتی و اقتصادی استحکام کو براہِ راست متاثر کر رہی ہیں۔انہوں نے عالمی برادری اور معاہدے کے ضامن اداروں، بشمول عالمی بینک سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کریں تاکہ پانی کے وسائل پر بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کو روکا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اور بین الاقوامی ذرائع استعمال کرے گا اور سندھ طاس معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔





