بھارت لداخ خطے کے لوگوں کے دیرینہ مطالبات کو مسلسل نظر انداز کر رہا ہے، ایل اے بی

لیہہ :بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے خطے لداخ میں لیہہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) نے بھارتی وزارت داخلہ کیساتھ اپنے حالیہ ملاقات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارت نے ریاستی درجے اور چھٹے شیڈول کے اسکے دیرینہ مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ایل اے بی کے شریک چیئرمین چیرنگ دورجے لکروک نے لیہہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ مودی حکومت لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) کی طرف سے مشترکہ طور پر پیش کردہ مطالبات پر کوئی خاص غور نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ اس موقع پرچھٹے شیڈول اور ریاستی حیثیت کے نام نہاد "نقصانات” کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے لداخ کے آئینی اور سیاسی مستقبل کے لیے کوئی متبادل فریم ورک پیش نہ کرنے پر بھارتی حکام پر کڑی تنقید کی۔
لداخ گونپا ایسوسی ایشن کے صدر گیلونگ اسٹینزن دورجے، جنہوں نے میٹنگ میں شرکت کی، اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ بھارت لداخ خطے کے لوگوں کی خواہشات کوسنجیدگی سے نہیں دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس فیصلہ کن موڑ پر لداخ کے لوگوں میں اتحاد بہت ضروری ہے۔
انجمن امامیہ کے صدر اشرف علی برچہ، نوجوان رہنما پدما ستانزین، ایڈوکیٹ مصطفی حاجی سمیت دیگر قائدین نے بھی میڈیا سے خطاب کیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ مسلسل پرامن احتجاج کے باوجود جس کے دوران جانیں بھی ضائع ہوئیں اور بہت سے لوگ زخمی ہوئے، نئی دہلی لداخ کے آئینی مطالبات کو مسلسل نظر انداز کررہا ہے۔
لیہہ ایپکس باڈی(ایل اے بی) نے کہا کہ اس کے قانونی ماہرین، جنہوں نے مطالبات کا مسودہ تیار کیا تھا، کو آئینی اور تکنیکی پہلوو¿ں کو واضح کرنے کے لیے اجلاس میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی، جس سے اجلاس کی شفافیت اور ارادے پر سوالات اٹھے۔
ایل اے بی کے رہنماو¿ں نے اعلان کیا کہ چھٹے شیڈول کا نفاذ اور ریاستی درجے کی فراہمی لداخ کے لوگوں کا اجتماعی مطالبہ ہے۔




