بھارت

بھارت :مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف کسان اور تجارتی تنظیموں کی ملک گیر ہڑتال

نئی دلی:
بھارت میں سنیوکت کسان مورچہ اور 10سے زائد کسان تنظیموں کے علاوہ مرکزی ٹریڈ یونینوں نے مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ملک گیرہڑتال شروع کر دی ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کسان اور مزدور تنظیمیں بھارت امریکہ تجارتی معاہدے، نئے لیبر کوڈ، بجلی بل2025، بیج بل 2025اور وی بی جی رام جی قانون 2025کے خلاف احتجا ج کیلئے سڑکوں پر نکلی ہیں۔ کئی اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس احتجاج کی حمایت کی ہے ۔سنیوکت کسان مورچہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ احتجاج نیو لیبر کوڈ کو واپس لینے، بجلی اور بیج سے متعلق مجوزہ قوانین کو رد کرنے، وی بی جی رام جی قانون 2025کی منسوخی ، پرانی پنشن اسکیم کی بحالی اور مزدوروں سمیت اسکیم کارکنان کے لیے کم از کم اجرت نافذ کرنے جیسے مطالبات کے حق میں کیا جارہا ہے۔ تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ زرعی مزدور تنظیموں کا پلیٹ فارم اور نریگا سنگھرش مورچہ بھی اس احتجاج میں شامل ہیں۔ٹریڈ یونینوں کے نمائندوں نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ہڑتال میں تقریبا تمام شعبوں کے لاکھوں مزدور شامل ہیں۔ کسان تنظیموں کی اپیل پر بڑی تعداد میں کسان بھی احتجاج میں شامل ہو کر صنعتی مزدوروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کررہے ہیں ۔صنعتی اور کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد کارپوریٹ خاندانوں کو فائدہ پہنچاناہے ۔کسان تنظیموں کا سب سے شدید اعتراض بجلی بل 2025اور بیج بل 2025پر ہے۔ جن کے تحت کسانوں اور گھریلو صارفین کے لیے بجلی کے نرخ بڑھا دئے گئے ہیں اور اسمارٹ میٹر لگائے جارہے ہیں ۔ بیج بل کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس سے کثیر قومی کمپنیوں کا اثر و رسوخ بڑھے گا، بیجوں کی قیمتیں من مانی طور پر طے کی جا سکیں گی ۔ کسانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسمارٹ میٹر منصوبہ روکا جائے اور تمام صارفین کو 300 یونٹ تک مفت بجلی دی جائے۔وی بی جی رام جی قانون 2025جسے منریگا کے متبادل کے طور پر نافذ کیا گیا ہے، اس پر مزدور تنظیموں کا کہنا ہے کہ منریگا کے تحت دیہی علاقوں میں روزگار کی ضمانت فراہم کی گئی تھی،تاہم نئے قانون میں اس حق کومتاثر کر سکتا ہے۔ انریگا سنگھرش مورچہ اور سنیوکت کسان مورچہ نے اسے دیہی روزگار پرحکومت کا حملہ قرار دیا ہے۔بھارت امریکہ تجارتی معاہدے کو بھی کسان اور مزدور تنظیموں نے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ امریکہ سے سستے زرعی اور ڈیری مصنوعات کی درآمد سے مقامی کسانوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔کانگریس رہنما راہل گاندھی نے بھی بھارت بند(ہڑتال) کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاکھوں مزدور اور کسان اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال کیا کہ کیا وہ عوام کی بات سنیں گے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button