نئی دلی : کسانوں کا بھارت امریکہ تجارتی معاہدے کیخلاف ملک گیر تحریک چلانے پر غور

نئی دلی:کانگریس کے مرکزی رہنما راہول گاندھی نے پارلیمنٹ ہاﺅس کمپلیکس میں بھارت بھر کی کسان یونینوں کے رہنماﺅں سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران بھارت امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے اور کسانوں اور زرعی مزدوروں کی روزی روٹی کے تحفظ کی ضرورت پر بات چیت کی گئی۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق کسان یونین رہنماﺅں کا اس موقع پر کہنا تھا کہ وہ بھارت امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف ہیں ۔ انہوںنے تشویش ظاہر کی کہ اس معاہدے سے مکئی ، سویابین ، کپاس اور میوے اگانے والے کاشتکار وں کی روزی روٹی خطرے میں پڑ جائے گی ۔ راہول گاندھی نے کساتوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ معاہدے سے زرعی درآمدات کا راستہ کھل جائے گا لہذا یہ کسانوں کے لیے واقعی باعث تشویش ہے اور اسکی مخالفت کیلئے بڑے پیمانے پر ملک گیر تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔ راہول گاندھی سے ملاقات کرنے والوں میں آل انڈیا کسان کانگریس کے صدر سکھ پال ایس کھیڑا، بھارتیہ کسان مزدر یونین ہریانہ کے اشوک بلہارا، بی کے یوکرانتی کاری کے لدیون ایس زیرہ ، پروگریسیو فارمرس فرنٹ کے آرنند کمار ، بی کے یوشہید بھگت سنھ کے امرجیت ایس مہری، کسان مزدوریونین مورچہ کے گرمینت ایس منگت کے علاوہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر کے زمیندار فورم کے حمید ملک اور دیگرشامل تھے۔ قبل ازیں راہول گاندھی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ حکومت ان کے خلاف بے شک کیسز بنائے لیکن وہ کسانوں کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے کہاتھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کسان دشمن ہیں اور وہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کے ذریعے ملک کو فروخت کر رہے ہیں۔







