مضامین

جھوٹے پوسٹر، سچی مزاحمت

تحریکِ آزادی کا مقامی شناخت مسخ کرنے کی نئی بھارتی کوششیں

تحریر: ارشد میر

بھارتی قابضین کی جانب سے تحریکِ آزادی کشمیر کے مقامی تشخص پر تازہ وار دراصل اس گہری بوکھلاہٹ، سیاسی دیوالیہ پن اور اخلاقی افلاس کی علامت ہے جو مئی کی جنگ میں بدترین شکست، عالمی سطح پر بے نقاب ہوتی حقیقتوں اور مقبوضہ کشمیر میں مسلسل بڑھتی عوامی بے چینی کے بعد ان پر طاری ہو چکا ہے۔ ڈوڈہ ضلع میں مقامی کشمیری نوجوانوں کو "فارن ملی ٹینٹ” اور "پاکستانی کمانڈر” قرار دے کر پوسٹرز چسپاں کرنا کوئی نیا حربہ نہیں بلکہ اس پرانی، گھسی پٹی اور ناکام بھارتی حکمتِ عملی کا تسلسل ہے جس کے ذریعے وہ کشمیریوں کی جائز، عوامی، سیاسی اور قانونی تحریکِ آزادی کو غیر مقامی اور مبنی بر دہشت گردی  ثابت کرنے کی لاحاصل کوششیں کرتا آیا ہے۔

یہ پوسٹر مہم درحقیقت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت شروع کی گئی ہے جس کا بنیادی مقصد تحریکِ آزادی کے خالص مقامی کردار کو مسخ کرنا، ریاستی دہشت گردی کو جواز فراہم کرنا، پاکستان کو بدنام کرنا اور عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنے مظالم پر پردہ ڈالنا ہے۔ داڑھی کے ساتھ اور بغیر داڑھی کے نوجوانوں کی تصاویر شائع کر کے انہیں ’’غیر ملکی جنگجو‘‘ قرار دینا، عوام سے مخبری کا مطالبہ کرنا اور ’’سیکیورٹی‘‘ کے نام پر مکانات و دکانیں کرائے پر دینے سے قبل پیشگی تصدیق جیسے احکامات دراصل خوف کی اس نفسیات کو جنم دینے کی کوشش ہیں جس کے سہارے ایک قابض قوت اپنی گرفت مضبوط رکھنا چاہتی ہے۔ مگر  سچ پوچھئے تو خوف پیدا کرنے کی کوشش میں بھارت اپنے خوف ذدہ  اور بے اعتماد ہونے کا ثبوت فراہم کررہا ہے۔ یوں بھی تاریخ گواہ ہے کہ  جبروخوف کے بل پر مسلط کیا گیا نظام  ہمیشہ عارضی اور ذلت آمیز ثابت ہوا ہے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں حقِ خود ارادیت کے لیے جاری جدوجہد کوئی اچانک جنم لینے والا یا باہر سے مسلط کیا گیا مظہر نہیں بلکہ یہ اس سرزمین کی تاریخ، شناخت، اجتماعی شعور اور مسلسل سیاسی محرومیوں کا فطری نتیجہ ہے۔ بھارت گزشتہ تقریبا آٹھ  دہائیوں سے اس جدوجہد کو کبھی دہشت گردی، کبھی فرقہ واریت اور کبھی سرحد پار اسپانسرڈ کا لیبل لگا کر بدنام کرنے کی کوشش کرتا آیا ہے مگر ہر بار اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ 1990 میں کشمیری پنڈتوں کے انخلا سے لے کر آج تک کتنی ہی سازشیں، فالس فلیگ آپریشنز، جعلی مقابلے اور دیگر  ڈرامہ بازیاں  کی گئیں مگر نہ تو کشمیریوں کے جذبۂ آزادی کو کمزور کیا جا سکا اور نہ ہی عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کی اصل حقیقت، جو کشمیریوں کی اپنی مزاحمت سے قائم ہے ،  کو مٹایا جا سکا۔

ڈوڈہ، کشتواڑ، ٹھاٹھری، گندوہ، کٹھوعہ، اُدھم پور، راجوری اور پونچھ میں جاری وسیع پیمانے پر تلاشی آپریشنز اور کٹھوعہ میں کنٹرول لائن کے قریب شہری نقل و حرکت پر ساٹھ روزہ پابندی اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ زمینی حقائق مودی سرکار اور اس کے گودی میڈیا کے بیانیے کی نفی کر رہے ہیں۔ اگر واقعی اگست 2019 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں "امن کا چمتکار” ہو چکا ہے ہوتا تو پھر یہ ناکہ بندیاں، یہ گھروں پر چھاپے، یہ اندھا دھند گرفتاریاں اور یہ اجتماعی سزائیں کیوں دی جا رہیں؟ اگر کشمیری خاص طور پر نوجوان  بھارت کے حامی ہوگئے تو ان سے یہ خوف کیوں، انھیں غیر ملکی ملی ٹینٹ ظاہر کرنے کی اس مہم جوئی  کی ضرورت کیوں؟ عسکریت پسند چند درجن رہ گئے، بہت کمزور ہوگئے، جنگلوں میں چھپ رہے ہیں  تو 10 لاکھ فوج  رکھنے کی ضرورت کیوں اور اس  فوج سے شہروں اور قصبوں میں بھی  دن رات آپریشنز کرانے،  یہاں تک کہ  پورے پورے علاقوں میں لوگوں کی نقل و حرکت پر دو دو ماہ تک پابندیاں عائد  کرنے کی ضرورت کیوں  پڑ رہی  ہے؟  اصل میں یہ تمام اقدامات بھارت کے اس جھوٹے بیانیے کے منہ پر زور دار طمانچہ ہیں جو وہ دنیا کو سنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ پوسٹر مہم بھی اسی خوف اور ناکامی کا تسلسل ہے۔ ایک قابض ریاست جب اپنی سیاسی ساکھ، اخلاقی جواز اور عسکری برتری کھو بیٹھتی ہے تو وہ سچ کا سامنا کرنے کے بجائے پروپیگنڈے، لیبلنگ اور نفسیاتی جنگ کا سہارا لیتی ہے۔ مقامی نوجوانوں کو "غیر ملکی” ثابت کرنے کی کوشش اس حقیقت سے راہِ فرار اختیار کرنے کا حربہ ہے کہ کشمیری عوام خود بھارت کے تسلط کو مسترد کرتے ہیں اور اپنی آزادی کو اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں۔ یہ جدوجہد نہ تو بندوق کے زور پر پیدا ہوئی اور نہ ہی بندوق کے زور پر ختم کی جا سکتی ہے کیونکہ اس کی بنیاد عوامی خواہش، جذبات، اجتماعی شعور اور تاریخی حقائق پر ہے۔

بھارتی قابضین کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ پوسٹر، اشتہارات، جعلی کہانیاں اور جھوٹے الزامات کسی قوم کی اجتماعی یادداشت اور اس کے تاریخی شعور کو مٹا نہیں سکتے۔ کشمیری نوجوانوں کو ’’پاکستانی کمانڈر‘‘ کہہ دینے سے وہ اچانک غیر کشمیری نہیں بن جاتے، نہ ہی ان کی قربانیاں، ان کے دکھ، ان کی محرومیاں اور ان کی جدوجہد اپنی معنویت کھو دیتی ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ کشمیری نوجوان اس سرزمین کے وارث ہیں، اسی مٹی میں پیدا ہوئے، اسی میں جوان ہوئے، اسی میں بھارتی ستم  سہے اور اسی کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بھارت کی یہ تمام تر کوششیں الٹا اس کی اپنی کمزوریوں، خوف اور عدمِ اعتماد کو بے نقاب کر رہی ہیں۔ ایک مضبوط، پُراعتماد اور جائز حکومت یا عملداری کو نہ تو اس قسم کی مہمات کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی اسے عوام کو دیوار سے لگانے کے لیے ایسے ہتھکنڈے اپنانے پڑتے ہیں۔ مگر چونکہ بھارت کشمیر میں نہ اخلاقی جواز رکھتا ہے نہ قانونی، نہ سیاسی قبولیت اسے حاصل ہے نہ عوامی حمایت، اس لیے وہ طاقت، جبر اور پروپیگنڈے کے سہارے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان تمام تر مظالم، جبر اور ریاستی دہشت گردی کے باوجود ایک حقیقت ناقابلِ تردید ہے کہ کشمیری عوام سرنگوں نہیں ہوں گے۔وہ دہائیوں کی جدوجہد میں بارہا امتحان کا یہ پرچہ دیکر   ثابت کرچکے ہیں۔ ویسے بھی فطری اصول ہے کہ ظلم جتنا بڑھتا ہے، مزاحمت اتنی ہی مضبوط ہوتی ہے۔ کشمیریوں کے دلوں سے آزادی کی خواہش نہ پوسٹر مہمات مٹا سکتی ہیں، نہ تلاشی آپریشنز، نہ پابندیاں اور نہ ہی گولیوں اور قید و بند کے ہتھکنڈے۔ یہ جدوجہد وقت کے ساتھ مزید پختہ، شعوری اور منظم ہو رہی ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جس سے بھارتی قابض قوت سب سے زیادہ خوف زدہ ہے۔

بھارتی قابضین ان ڈرامہ بازیوں کے ذریعے وقتی طور پر مزید ظلم و جبر کا جواز تو تراش سکتے ہیں مگر وہ نہ تو اپنی قابض، جابر اور ظالم حیثیت کو بدل سکتے ہیں اور نہ ہی کشمیری عوام کی نفرت، مزاحمت اور عزمِ آزادی کو کمزور کر سکتے ہیں۔ کشمیر کی تحریک آزادی ایک زندہ حقیقت ہے، ایک زندہ جدوجہد ہے اور جب تک حقِ خود ارادیت کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو جاتا، یہ آواز دبائی نہیں جا سکتی۔ کشمیریوں نے فیصلہ کررکھا ہے  اور لاکھوں کے خون سے اسکی تصدیق کرچکے ہیں کہ وہ ظلم کے آگے نہ جھکیں گے، نہ بکیں گے اور نہ ہی اپنی شناخت اور حق سے دستبردار ہوں گے، چاہے اس راہ میں کتنی ہی قربانیاں مزید کیوں نہ دیناپڑیں۔

 

 

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button