حق خود ارادیت کے لئے سکھوں کی جدوجہد کی علامت کے طور پر آج یوم خالصتان منایا جا رہا ہے
امرتسر : آج یوم خالصتان منایا جا رہا ہے کیونکہ 1986 میںآج ہی کے دن 5 رکنی پنتھک کمیٹی نے ایک آزاد سکھ ریاست” خالصتان“ کا اعلان کیاتھا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ دن سکھوں کی استقامت، قربانی اور انصاف کے لیے مسلسل جدوجہد کی ایک علامت ہے جو ظلم کے خلاف مزاحمت کی تاریخ کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ سکھ ورثے اور حقوق کے تحفظ کے لیے کمیونٹی کی غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔خالصتان تحریک جو بھارتی پنجاب میں سکھوں کے لیے ایک آزاد وطن کا مطالبہ کرتی ہے، بھارت میں سکھ برادری کے خلاف منظم امتیازی سلوک کے نتیجے میں زور پکڑ گئی۔ ایک علیحدہ سکھ ریاست کا مطالبہ برطانوی سلطنت کے زوال کے بعد شروع ہوا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک علیحدہ سکھ ریاست کا خیال بھارت اور دنیا بھر میں مقیم سکھوں کو ایک آزاد وطن کے لیے جدوجہد کرنے کی تحریک دیتا ہے۔ سکھ کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ایک علیحدہ ریاست خالصتان حاصل نہیں کر لیتے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف ان کی جدوجہد دراصل ہندوتوا کی بالادستی کے خلاف جنگ ہے۔ان کا کہنا ہےکہ بہادر سکھ جون 1984 میں بھارتی فوج کے ہاتھوں اپنے مقدس ترین مقام کی بے حرمتی اور ان کے رہنما سنت جرنیل سنگھ بھندرانوالہ کے قتل کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سکھ بھندرانوالہ کے دکھائے ہوئے راستے پر چلنے کے لیے پرعزم ہیں۔رپورٹس میں کہاگیا ہے کہ بھارتی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ سخت پریشان ہے کیونکہ خالصتان کا نظریہ دنیا بھر کے سکھوں میں گہری دلچسپی پیدا کر رہا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے کہا کہ سکھوں کو بھارتی حکومتوں کے ہاتھوں منظم ظلم و ستم اور مسلسل استحصال کا سامنا رہاہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت میں سکھوں پر جاری ظلم و ستم پر اپنی خاموشی ترک کرے۔یوم خالصتان سکھ برادری کی عزت اور حق خود ارادیت کی خواہش کی یاد دہانی ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ تمام لوگوں کا ناقابل تنسیخ حق ہے۔






.jpeg?resize=618%2C347&ssl=1)

