بی جے پی حکومت نے کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کررکھے ہیں

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت نے کشمیری عوام کے زندگی اور آزادی اظہار سمیت تمام بنیادی حقوق سلب کررکھے ہیں جس سے علاقے میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہواہے اور لوگوں کا دم گھٹ رہا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تجزیہ کاروں اور سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں جاری کشیدہ ماحول میں کشمیریوں کی جانیں، عزتیں اور آزادی بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ اور اس کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی سفاک اسٹیبلشمنٹ کے رحم و کرم پر ہیں۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کے دوران لوگوں کو گرفتاراورہراساں کرنا اورتشدد کا نشانہ فوج، پیراملٹری اور پولیس سمیت بھارتی فورسز کا معمول بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بی جے پی حکومت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے بعد بھارتی فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں خطرناک حد تک بڑھ چکی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس کی حمایت یافتہ بھارت کی بی جے پی حکومت اپنے جابرانہ او رظالمانہ اقدامات کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف کالے قوانین کا استعمال کرکے علاقے میں تمام اختلافی آوازوں کو دبا رہی ہے۔تجزیہ کاروں اور سیاسی ماہرین نے کہاکہ نریندر مودی اور ان کے حواریوں کو عوام کے بنیادی حقوق کو پامال کرنے پرجوابدہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ مقبوضہ جموں وکشمیرکی سنگین صورتحال پر دنیا کی خاموشی سے علاقے میں جاری ظلم جبر بڑھانے کے لئے بھارت کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے تاکہ لوگوں کے جذبہ آزادی کو کچل سکے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج اور پولیس غیر کشمیری بیوروکریٹس کے ساتھ مل کر مقبوضہ جموں و کشمیر پر غیر جمہوری طریقے سے حکومت کر رہی ہے جبکہ عوام کو ان کے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کے لئے آواز اٹھانے پر دبایا جا رہا ہے۔






