بھارت کشمیریوں کو دبانے کے لیے کالے قوانین کا استعمال کر رہاہے:حریت کانفرنس

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بھارت کی بی جے پی حکومت اوراس کی فورسزکشمیریوں کی تذلیل کرنے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت استصواب رائے کے ان کے جائز مطالبے کو دبانے کے لیے جنسی تشدد کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید مناس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی حکومت نے جنسی تشدد کے واقعات کو مسلسل نظر انداز کیا ہے اور ایسے گھناو نے جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والے فورسزاہلکاروں کو آرمڈ فورسزا سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت تحفظ فراہم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے خلاف بے شمار جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور 23 فروری جموں وکشمیر کی تاریخ کے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک ہے جب بھارتی فوجیوں نے ضلع کپواڑہ کے علاقے کنن پوش پورہ میں داخل ہو کر 100سے زائد عفت مآب خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی جبکہ تقریباً 200 مردوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ترجمان نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ کنن پوش پورہ سانحے کے متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سانحے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات میں بھارتی فوجیوں کو قصوروار پایا گیا تاہم بعد میں بھارتی حکومت نے اس واقعے کی پردہ پوشی کرتے ہوئے قصورواروں کو کلین چٹ دے دی۔





