فاروق عبداللہ کا مقبوضہ جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے علاقے کی ریاستی حیثیت کی بحالی میں مسلسل تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فاروق عبداللہ نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام نے صبر سے انتظار کیا اور جمہوری اداروں پر اعتماد کیا ہے، لیکن ریاستی حیثیت کی بحالی کا وعدہ ابھی تک پورا نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی رعایت نہیں بلکہ ایک آئینی حق ہے جو کشمیری عوام کی جمہوری امنگوں اور سیاسی تشخص کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے واضح ٹائم لائن کی عدم موجودگی نے عوام میں بے یقینی اور مایوسی کو جنم دیا ہے۔فاروق عبداللہ نے مودی کی زیر قیادت بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات کرے ۔ انہوں نے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں دیرپا امن، استحکام اور ترقی کے لیے جمہوری حقوق اور آئینی ضمانتوں کا تحفظ ضروری ہے۔ بھارت نے اگست 2019 میں ادفعہ 370 اور 35 اے کو منسوخ کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کرکے اسے مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں میں جموں وکشمیر اورلداخ میں تقسیم کردیا تھا۔






