بھارت

مودی کے بھارت میں آزادی اظہار رائے جرم قرار

بی جے پی حکومت پر تنقید کرنے پر برطانوی شہری پر سفری پابندی کردی

اسلام آباد:
بھارت میں بی جے پی کی ہندوتوا حکومت کے دور میں اظہاررائے کی آزادی کا بنیادی حق شدید خطرے میں ہیں۔مودی کی بھارتی حکومت نے ایک برطانوی ڈاکٹر کو محض سوشل میڈیا پوسٹ میں تنقید کرنے پر سفری پابندی عائد کردی ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابقگزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے بھارت سے باہرنہیں جاسکے ہیں کیونکہ پولیس نے انکے خلاف حکمران بی جے پی کے ایک سینئر سیاست دان سے متعلق سوشل میڈیاپرپوسٹ کرنے پر مقدمہ درج کرلیا تھا۔ پولیس نے سنگرام کو 19جنوری کو ممبئی ایئرپورٹ پر لندن جانے والی پرواز میں سوار ہونے سے روک دیا تھا ۔بھارتی حکام نے ان کے خلاف لک آئوٹ سرکلرجاری کر رکھا تھا، جس کے تحت انہیں ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ سنگرام پاٹیل پر الزام ہے کہ انہوں نے فیس بک پر بی جے پی کے ایک رہنما کے بارے میں قابل اعتراض مواد پوسٹ کیا، تاہم سنگرام پاٹیل نے کسی بھی غلطی سے انکار کیا اور اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔برطانوی شہری نے مقدمہ خارج کرنے اور سفری پابندی ختم کرانے کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے، جس کی اگلی سماعت 27 فروری کومقرر ہے۔سنگرام پاٹیل کا کہنا ہے: انکے بچے اور ملازمت برطانیہ میں ہیں۔ بین الاقوامی قانون اور بھارتی قانون کے تحت انہیں آزادانہ نقل و حرکت کا حق حاصل ہے ، مگر بھارتی حکومت نے ان پر سفری پابندی عائد کر دی ہے اور وہ اپنے گھر واپس نہیں جا سکتے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بھارت آنے والے غیر ملکی شہریوں کیلئے انتہائی تشویش کاباعث ہے۔ قابل ضمانت الزام کے باوجود طویل پوچھ گچھ اور نقل و حرکت پر پابندی سے ظاہر ہوتاہے کہ سیاسی خصوصا ہندوتوا بی جے پی سے وابستہ شخصیات پر تنقید ریاستی جبر کاباعث بن سکتی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار ملک میں اس طرح کے جابرانہ اقدامات اختلافِ رائے کے لیے محدود گنجائش اور انتظامی طاقت کے بے تحاشا استعمال کے خدشات کو تقویت دیتے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button