بھارت

بھارتی وزیر اعظم مشرق وسطیٰ، مسلم دنیا کو غیر مستحکم کرنے کیلئے اسرائیل کیساتھ پینگیں بڑھا رہے ہیں

اسلام آباد: سیاسی مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان مضبوط ہوتی ہوئی تزویراتی شراکت داری نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ مشرق وسطیٰ کو بھی غیر مستحکم کر سکتی ہے۔ انہوںنے مسلم دنیا پر زور دیا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ کا سنجیدگی سے نوٹس لیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سیاسی مبصرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح سے بھارت جنوبی ایشیا میں بالادستی قائم کرنے کے لیے اسرائیل سے توقعات وابستہ کیے ہوئے ہے، اسی طرح سے اسرائیل نے بھی مشرق وسطیٰ میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے بھارت سے توقعات وابستہ کی ہوئی ہیں ۔ انہوں نے خبردار کیا دونوں کی یہ باہمی اسٹریٹجک صف بندی دنیا کو درپیش تنازعات کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
مبصرین کہتے ہیں کہ بھارت خلیجی ممالک کو لیبر اور ٹیکنالوجی کے پیشہ ور افراد کے ایک بڑے سپلائر کے طور پر مشرق وسطیٰ کے کچھ حصوں میں سلامتی اور تکنیکی شعبوں تک اسرائیل کی گہرائی تک رسائی میں سہولت فراہم کر سکتا ہے۔ انہوںنے اس حوالے سے حالیہ برسوں میں قطر اور متحدہ عرب امارات میں بھارتی جاسوسوں کی گرفتاریوں کا حوالہ دیا جو بھارت اور اسرائیل کے درمیان انٹیلی جنس رسائی اور خفیہ تعاون کے بارے میں خدشات کو جنم دیتا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت ایران میں اسرائیل نواز حکومت کے قیام کی کوششوں کی حمایت کر رہا ہے۔ انہوںنے خبردار کیا ہے کہ ایسا کوئی بھی اقدام مشرق وسطیٰ کی ریاستوں کے اسٹریٹجک توازن اور خود مختار مفادات کو براہ راست متاثر کرے گا۔مبصرین نے الجزیرہ سمیت دیگر میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کہ غزہ اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے بھارت اور اسرائیل کی باہم مربوط پالیسی امت مسلمہ کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے اور مسلم بلاک کو اس ابھرتی ہوئی شراکت داری کو ایک وسیع تر تزویراتی چیلنج کے طور پر دیکھنا چاہیے۔سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے دوران خاص طور پر دفاعی اور داخلی سلامتی کے شعبوں میں بھارت اسرائیل تعلقات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور تعاون میں اب جدید نگرانی کے نظام، ڈرون ٹیکنالوجی، میزائل سسٹم اور انٹیلی جنس شیئرنگ میکانزم شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کہتے ہیں کہ یہ بڑھتی ہوا تزویراتی ہم آہنگی ہندوتوا اور صیہونی فریم ورک کے درمیان ایک نظریاتی صف بندی کی عکاسی کرتا ہے۔ دونوں کی بڑھتی ہوئی قربت خاص طور پر فلسطین اور مقبوضہ جموںوکشمیر میں آبادیاتی تبدیلی کے حوالے سے انتہائی باعث تشویش ہے۔انہوںنے کہا کہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں نئے ڈومیسائل قوانین کا نفاذ اور اس طرح کے دیگر اقدامات فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آباد کاری کے نوآبادیاتی طرز عمل کی عکاسی کرتے ہیں۔
بھارت اور اسرائیل کے درمیان پینگیں مودی دور سے بڑھنا شروع ہوئیں جبکہ قبل دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے کبھی ایک دوسرے کے ملک کا دورہ نہیں کیا تھا۔مودی نے اسرائیل کا پہلا دورہ 4 تا 6 جولائی 2017 میں کیا تھا جو کسی بھی بھارتی وزیرِاعظم کا اسرائیل کا پہلا دورہ تھا۔
اسی طرح اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے بھارت کا سرکاری دورہ 14 سے 18 جنوری 2018 کے دوران کیا جو کسی بھی اسرائیلی وزیرِاعظم کا بھارت کا پہلا دورہ تھا۔ مودی نے غزہ پر اسرائیلی بمباری اور جارحیت کے خلاف کبھی اواز بلند نہیں کی بلکہ درپردہ صیہونی ریاست کی مدد کی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button