ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی، اسرائیلی حملے میں شہید
مودی کے دورہ اسرائیل سے مشرق وسطیٰ میں افراتفری بڑھ گئی

تہران:ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہفتے کی صبح امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملے میں اپنے دفتر میں شہید ہو گئے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ فضائی حملے میں تہران میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا،بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں 40 کے قریب اعلیٰ ایرانی عہدیدار بھی مارے گئے۔ اسرائیل نے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے سربراہ سمیت کئی اعلیٰ ایرانی عہدیداروں کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔تاہم اسلامی انقلابی گارڈ کور نے امریکی اڈوں اور اسرائیل کے خلاف سب سے زیادہ تباہ کن جارحانہ آپریشن شروع کرنے کا عزم ظاہر کیا جس سے ایک وسیع علاقائی جنگ کا خدشہ پیدا ہوا۔سیاسی مبصرین نے اس کشیدگی کو ہندوتوا کے حامل نریندر مودی کی زیر قیادت بھارت-اسرائیل اسٹریٹجک صف بندی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ یہ حملے ان کے اسرائیل کے اعلیٰ سطحی دورے کے فوراً بعد ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ حملے کا وقت نئی دہلی کی سیاسی رضامندی کا اشارہ دیتا ہے جس سے ناقدین کے مطابق اس بات کو مزید تقویت ملتی ہے کہ ےہ بڑھتی ہوئی مسلم دشمن جغرافیائی و سیاسی صف بندی ہے۔تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح سے مشرق وسطیٰ میں وسیع تر عدم استحکام کا خطرہ ہے اور اس کے علاقائی سلامتی اور عالمی امن پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔




