آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پرکرگل میں احتجاجی مظاہرے

کرگل:ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر لداخ خطے کے علاقے کرگل میں بھی غم وغصے کی لہر دوڑ گئی، ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، احتجاجی مظاہرے کئے اور خصوصی تعزیتی مجالس کا انعقادکیاگیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق خطے کے مختلف علاقوں میں مساجد اور امام بارگاہوں کے باہر احتجاجی مظاہرے کئے گئے جن میں جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ لوگ بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور ایرانی رہنما کے انتقال پر دکھ اورافسوس کا اظہار کیا۔ امام خمینی میموریل ٹرسٹ اور جمعیت العلماءاسنا اشعریہ کرگل نے حسینی پارک اور انقلاب منزل کو سیاہ بینروں میں لپیٹ کر ماتمی تقریبات کا آغاز کیا۔ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں شیخ محمد حسین لطفی اور شیخ محمد محقق نے شہید رہنماکی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں ایک پائیدار نظریاتی تحریک قرار دیا۔بعد ازاں ہزاروں مظاہرین کرگل قصبے میں داخل ہوئے جنہوں نے مرحوم رہنما کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔ مرکزی تعزیتی مجلس میں سرکردہ مذہبی اور کمیونٹی رہنماو¿ں نے شرکت کی۔الحاج اصغر علی کربلائی نے سات روزہ سوگ اور دو دن تک جلسے اور جلوس جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ جامع مسجد کرگل میں چالیس روز تک تعزیتی اجتماعات کا انعقاد کیا جائے گا۔






