آیت اللہ خامنہ ای کے قتل پر مودی حکومت کی خاموشی پر سونیا گاندھی کی کڑی تنقید
نئی دہلی:بھارت میں کانگریس کی سینئر رہنما سونیا گاندھی نے اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے بعد خاموشی اختیار کرنے پر نریندر مودی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاہیکہ حکومت کے طرز عمل سے بھارت کی خارجہ پالیسی کی ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں سونیا گاندھی نے لکھاکہ نئی دہلی کا ردعمل زیادہ تر یو اے ای کے خلاف ایران کی جوابی کارروائیوں کی مذمت اور کشیدگی میں کمی کے اصرار تک محدود ہے جو بین الاقوامی قانون یا خودمختاری کو برقرار رکھنے کے لیے ناکافی دکھائی دیتا ہے۔انہوں نے لکھا کہجب کسی غیر ملکی رہنما کی ٹارگٹ کلنگ پرہمارے ملک سے خودمختاری یا بین الاقوامی قانون کا کوئی واضح دفاع نہیں کیا جاتا اس سے ہماری خارجہ پالیسی کی سمت اور اعتماد پر سنگین شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ اس پر خاموشی سے ایک متوازن نقطہ نظر کے بجائے دستبرداری ظاہرہوتی ہے۔کانگریس لیڈر نے خبردار کیا کہ اس طرح کا قتل عالمی اصولوں کو کمزور کرسکتاہے۔ سونیا گاندھی نے کہاکہ مودی نے آیت اللہ خامنہ ای کے قتل سے صرف 48 گھنٹے قبل اسرائیل کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے غزہ تنازعہ میں شہری ہلاکتوں پر وسیع پیمانے پر بین الاقوامی تنقید کے باوجود اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا تھا۔سونیا گاندھی نے کہاکہ ایک ایسے وقت میں جب قوانین پر مبنی عالمی نظام تیزی سے کمزور ہوتا دکھائی دے رہا ہے، خاموشی ایک دستبرداری بن جاتی ہے۔ سونیا گاندھی نے بھارت کے اسٹریٹجک مفادات، بین الاقوامی ساکھ اور اخلاقی قیادت کے لیے اس مسئلے کی نازک نوعیت کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کے ردعمل پر پارلیمانی بحث کا مطالبہ کیا۔







