جنگ سے قبل نریندرمودی کے دورہ اسرائیل پر عالمی میڈیا اور بھارتی اپوزیشن کے سخت ردعمل
مودی کا دورہ اسرائیل متنازع صیہونی حکومت کے لیے سیاسی سہارا ثابت ہوا
نئی دلی:
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے سے قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ اسرائیل پر عالمی میڈیا اور بھارتی اپوزیشن کی جانب سے شدید ردعمل ظاہر کیاجارہاہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ناقدین کا کہنا ہے کہ اس دورے کی ٹائمنگ نے بھارت کی خارجہ پالیسی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔اطلاعات کے مطابق نردیندرمودی نے صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران ایران کے خلاف ممکنہ تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ بعض بین الاقوامی مبصرین کا دعویٰ ہے کہ نریندر مودی کا دورہ اسرائیل کی متنازع حکومت کے لیے سیاسی سہارا ثابت ہواہے۔امریکی تجزیہ کار ڈوگلس میک گریگور نے دعوی کیا کہ ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران امریکی بحریہ بھارتی بندرگاہیں استعمال کر رہی ہے۔
ادھر بھارتی اپوزیشن جماعتوں، بشمول کانگریس اور دیگر رہنمائوں نے مودی کے دورہ اسرائیل کو روایتی بھارتی خارجہ پالیسی سے انحراف قرار دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ ایران کے معاملے پر خاموشی اور اسرائیل سے قربت نے بھارت کی غیر جانبدار ساکھ کو متاثر کیا ہے۔کچھ سیاسی مبصرین نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا یہ دورہ چابہار بندرگاہ اور کاروباری مفادات کے تحفظ سے متعلق تھا۔ واضح رہے کہ اڈانی گروپ کی اسرائیل کی حیفہ اور ایران کی چابہار بندرگاہ میں سرمایہ کاری ہے۔ ناقدین کے مطابق حکومت کو وضاحت دینی چاہیے کہ مودی کے دورے کے دوران قومی مفادات اور کاروباری تعلقات میں کس کو ترجیح دی گئی۔بھارتی حکومت کی جانب سے ان الزامات پر تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا جبکہ ملک کے اندر اور بیرونِ ملک اس دورے پر بحث جاری ہے۔







