مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ کشمیر: پولیس نے سرینگر سے 120نوجوانوں کی گرفتاری کا اعتراف کر لیا

بھارتی فورسز نے پورے مقبوضہ علاقے سے 8سو کے قریب نوجوان حراست میں لیے، آزاد ذرائع

سرینگر :بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی پولیس نے ایران پر امریکی ، اسرائیلی جارحیت اور ملک کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے قتل کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی پاداش میں سری نگر سے 120سے زائد نوجوانوں کی گرفتاری کا اعتراف کیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق امریکی ، اسرائیلی جارحیت کے خلاف سرینگر کے زیڈی بل، لال چوک، شالہ ٹینک، نوگا، پارمپورہ، نگین، بمنہ ، پارمپورہ اور دیگر علاقوں میں شدید احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ مظاہروں کے حوالے سے زیڈی بل ، شالہ ٹینگ، نوگام، نگین اور بمنہ تھانوں میں ایک ایک جبکہ پارمپورہ تھانے میں دو مقدمات درج کیے گئے ہیں۔مقدمات میں کالے قانون ”یو اے پی اے “ کی دفعہ 13اور غیر قانونی اجتماع اور پتھراﺅ سے متعلق دفعات شامل ہیں۔ پولیس نے کہا کہ در ج مقدمات کے سلسلے میں سرینگر شہر سے 44 افراد کو باضابطہ طور پر گرفتار کیا گیا ہے جبکہ مظاہروں کو مزید پھیلنے سے روکنے کیلئے 80کے لگ بھگ نوجوانوں کو احتیاطی طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔پولیس نے تصدیق کی ہے کہ حراست میں لیے گئے نوجوانوں میں کچھ کم عمر لڑکے بھی شامل ہیں۔حکام نے کہا کہ شہر کے حساس علاقوں میں فورسز کے اضافی دستے بدستور تعینات ہیں اور کڑی نگرانی کا عمل جاری ہے۔
دریں اثنا آزاد ذرائع کے مطابق بھارتی فورسز نے مظاہروں کی پاداش میں اب تک پورے مقبوضہ علاقے سے 8سو کے قریب نوجوان گرفتار کیے ہیں جن میں کچھ لڑکیاں بھی شامل ہیں۔
یاد ہے کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے قتل کی خبر پھیلنے ہی سری نگر کے علاوہ مقبوضہ وادی کشمیر کے دیگر شہروں ، جموں اور لداخ خطے کے لیہہ اور کرگل علاقوں میں زبردست مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔بعدازاں بھارتی انتظامیہ نے مظاہروں کو روکنے کیلئے کرفیوجیسی پابندیاں نافذ کر دی تھیں اور انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کیساتھ ساتھ تعلیمی ادارے بھی بند کر دیے تھے۔ گزشتہ روز(جمعہ) کو میر واعظ عمر فاروق کو بھی گھر میں نظربند کرنے کیساتھ ساتھ سرینگر کی تاریخی جامع مسجد بھی سیل کر دی گئی ۔ تاہم بڈگام اور دیگر علاقوں کچھ علاقوں میں لوگوں نے نماز جمعہ کے بعد پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے سخت احتجاج کیا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button