مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ کشمیر: فوجداری مقدمات میں تاخیر پر بھارتی سپریم کورٹ کااظہار تشویش

جموںوکشمیر میں351مقدمات 5 سال سے زائد عرصے سے زیر التوا ہیں

سرینگر:
بھارتی سپریم کورٹ نے غیر قانونی طورپربھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں فوجداری مقدمات کی سماعت میں طویل تاخیر پرسخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں 351مقدمات پانچ سال سے زائد عرصے سے زیر التوا ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سپریم کورٹ نے اس صورتحال کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ زیر سماعت قیدیوں کو غیر معینہ مدت تک جیل میں نہیں رکھا جا سکتا اورقابض حکام کو ہدایت دی کہ وہ طویل عرصے سے زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے واضح اور موثر ایکشن پلان تیار کریں۔ اس تشویش کا اظہار جسٹس جے بی پارڈی والا اور جسٹس کے وی وشواناتھن پر مشتمل سپریم کورٹ کے بنچ نے پرنسپل سیکرٹری داخلہ چندرکر بھارتی کی جانب سے جمع کرائے گئے حلف نامے کا جائزہ لیتے ہوئے کیا۔ حلف نامے کے مطابق جموں و کشمیر کی عدالتوں میں 585ملزمان پر مشتمل 351 مقدمات گزشتہ پانچ برس سے زیر التوا ہیں۔عدالت میں پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق اس وقت 235مقدمات استغاثہ کے گواہوں کی شہادت ریکارڈ کرنے کے مرحلے میں ہیں جبکہ 14مقدمات ضابطہ فوجداری کی دفعہ 313کے تحت بیانات ریکارڈ کرنے کے مرحلے میں اور34مقدمات میں حتمی دلائل نہیں دئے گئے ہیں ،6 مقدمات فیصلے کے مرحلے پر جبکہ 2 مقدمات چارج یا ثبوت کے مرحلے پر ہیں۔بنچ نے اتنی طویل تاخیر کی وجوہات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ الزامات عائد ہونے کے بعد ٹرائل کورٹس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ فوری طور پر شواہد ریکارڈ کریں اور مقدمات کو غیر ضروری تاخیر کے بغیر نمٹائیں۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ مقدمات کے دوران اکثر تاخیر متعلقہ اداروں کی جانب سے گواہان کو بروقت عدالت میں پیش نہ کرنے کے باعث ہوتی ہے، جو طویل ٹرائل کا جواز نہیں بن سکتی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button