مقبوضہ کشمیر: جامعہ سراج العلوم کے سینکڑوں طلباء کا احتجاجی مظاہرہ ، ادارے کی فوری بحالی کا مطالبہ
سرینگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے ضلع شوپیاں میں آج جامعہ سراج العلوم کے سینکڑوں طلبائ،انکے والدین اوراساتذہ نے کالے قانون کے تحت مدرسے کی بندش کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ انہوں نے ادارے کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا جسے بھارتی حکومت نے غیر قانونی قراردیکر گزشہ ماہ سیل کر دیا تھا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق احتجاجی طلبا نے جامعہ سراج العلوم سے ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ شوپیاں کے دفتر تک مارچ کیا ۔انہوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ”ہمار مستقبل بچائو اور ہمارا سکول کھولے ”جیسے نعرے درج تھے ۔مظاہرین نے اس موقع پر میڈیا کو بتایا کہ حکام نے ادارہ بند کر کے انکا مستقبل تاریک کر دیا ہے اور وہ سخت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔طلباء کا کہنا تھا کہ بورڈ کے امتحانات قریب ہیں اور اس نازک وقت میں ہمیں سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور کیا جار ہا ہے ۔ طلباء اور والدین نے حکام سے اپیل کی کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے ادارے کوجلد ازجلد کھول دیں۔طلبا نے ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر دھرنا دیا اور ”تعلیم ہمار بنیادی حق ہے ”کے نعرے لگائے ۔ احتجاج کے دوران ایک طالب علم افنان احمد نے کہا، "ہم اپنی پڑھائی جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ہم اپنے اسکول کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔طلبا کے والدین نے قابض انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں اور ادارے کو دوبارہ کام شروع کرنے کی اجازت دیں۔ انہوں نے کہا کہ سینکڑوں طلبا کا مستقبل دائو پر لگا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم انتظامیہ سے درخواست کرتے ہیں کہ ان طلبا کے مستقبل کو محفوظ بنایا جائے۔بعد ازاں والدین کے ایک وفد نے ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کی اور قابض انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ ادارے کو دوبارہ کھولنے کے لیے مداخلت کرے۔
واضح رہے کہ جامعہ سراج العلوم کو 24اپریل کو جماعت اسلامی کے ساتھ مبینہ وابستگی پر غیر قانونی سرگرمیوںکی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے کے غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔







