مقبوضہ کشمیر میں سینئر سیاسی رہنماﺅں کی زندگی خطرے میں ہے ، کانگریس صدر
فاروق عبداللہ پر ہونے والے قاتلانہ حملے پر اظہار تشویش
نئی دہلی:
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ پر حالیہ قاتلانہ حملے کی بازگشت بھارتی پارلیمنٹ میں بھی سنائی دی اور کانگریس کے سربراہ ملکارجن کھرگے نے مقبوضہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کھرگے نے بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیرین راجیہ سبھا میں خطاب کرتے ہوئے حملے کو سنگین معاملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا ”فاروق عبداللہ پر حملہ کیا گیا اور اگر حملہ آور کو ایک یا دو منٹ اور مل جاتے تو وہ انہیں مار سکتا تھا۔“
انہوں نے متنبہ کیا کہ مقبوضہ علاقے میں سینئر سیاسی رہنماﺅں کی زندگی خطرے میں ہے ۔مودی حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور فاروق عبداللہ کو موثر حفاظتی انتظامات مہیا کرے۔
نیشنل کانفرنس کے رکن بھارتی پارلیمنٹ چودھری رمضان نے بھی فاروق عبداللہ پر ہونے والے حملے پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے ان کے حفاظتی انتظامات فوری طور پر اپ گریڈ کرنے کا مطالبہ کیا۔
یاد رہے کہ کمل سنگھ جموال نامی شخص نے دو روز قبل فاروق عبداللہ پر اس وقت پستول سے گولی چلائی تھی جب وہ جموں میں شادی کی ایک تقریب میں شریک تھے ۔ ملز م کو جائے وقوعہ سے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا ۔ اسے پانچ روز کے پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے۔







