پاکستان کے پانی کوروکنے کے لئے بھارت کی مقبوضہ جموں وکشمیر میں نئے پن بجلی منصوبوں کی تیاری

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں مودی حکومت نے نئے پن بجلی منصوبوں کے لیے جگہوں کی نشاندہی کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے پاکستان کی طرف پانی کے بہاﺅ کو روکنے کے اس کے عزائم کی عکاسی ہوتی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی وزیر توانائی نے ٹائمز آف انڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ مودی حکومت علاقے سے پنجاب، راجستھان، ہریانہ، اتر پردیش اور دہلی سمیت شمالی بھارتی ریاستوں کو پانی پہنچانے کے طریقوں کا جائزہ لے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ پن بجلی منصوبے پہلے ہی کام کر رہے ہیں جبکہ آبی ذخائر کی صلاحیت کو بحال کرنے کے لیے کام جاری ہے اور رکے ہوئے منصوبوں کو بحال کیا جا رہا ہے۔بھارتی وزیرنے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ حکومت نہروں یا سرنگوں کے ذریعے پانی کو موڑنے کی فزیبلٹی کا مطالعہ کر رہی ہے جس میں دو سے تین ممکنہ راستے زیر غور ہیں۔ جموں شہر سے گزرنے والی مجوزہ نہرکو ناقابل عمل سمجھا گیا ہے، جبکہ شہر کو بائی پاس کرنے والے ایک متبادل راستے کا تکنیکی اور مالی اعتبار سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے پن بجلی منصوبے مقبوضہ جموں و کشمیر سے پاکستان کی طرف پانی کے بہاو کو کنٹرول کرنے کے لیے بھارت کی دیرینہ حکمت عملی کا حصہ ہیں جوسندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بنیادی مقصد توانائی کی کمی کو دور کرنے کے بجائے آبی وسائل پر اسٹریٹجک کنٹرول حاصل کرنا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کے بعد آنے والے ایسے اقدامات علاقائی امن یا استحکام کے مفاد میں نہیں ہیں۔








