لداخ کے رہنماوں کاتمام نظربندوں کی فوری رہائی کا مطالبہ
مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

لہہ:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں خطہ لداخ کے رہنماو¿ں نے جودھ پور جیل سے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی رہائی کے بعد تمام نظربندوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی نظربندی کو بھارتی حکومت کی جانب سے احتجاج کے جائز حق کو دبانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق لداخ کے رکن پارلیمنٹ محمد حنیفہ نے وانگچک کی رہائی کا خیرمقدم کیا لیکن اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو دیگر نظربندوں کو بھی رہا کرنا چاہیے اور پرامن احتجاج میں حصہ لینے والے افراد کے خلاف درج مقدمات واپس لینے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ ہم ان مسائل کا مذاکرات کے ذریعے حل چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج ایک آئینی حق ہے اور لداخ کی آوازوں کو حکومت تک پہنچانے کا واحد راستہ مظاہرے ہیں۔کرگل سے تعلق رکھنے والے سیاست دان اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) کے رکن سجاد کرگلی نے بھی دیلدان نمگیال اور سمنلا دورجے کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے دیگر مظاہرین کے خلاف درج مقدمات کو غیر مشروط طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ تمام مطالبات کی منظوری تک اپنے جائز حقوق کے لئے لداخیوں کی جدوجہد جاری رہے گی۔بھارتی وزارت داخلہ نے کہاہے کہ ہڑتالوں اوراحتجاجی مظاہروںنے مقامی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ تاہم محمد حنیفہ نے اس بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پرامن احتجاج ایک بنیادی جمہوری حق ہے اور حکومت کو جبر کے بجائے بات چیت کے ذریعے شکایات کا ازالہ کرنا چاہیے۔






