بھارت

چابہار بندرگاہ کو نظر انداز کرنا بھارت کی سفارت کاری کے لئے ایک اسٹریٹجک دھچکا ہے: کانگریس

 

نئی دہلی: بھار ت میں حزب اختلاف کی کانگریس پارٹی نے چابہار بندرگاہ کے منصوبے کو نظرانداز کرنے کو ملک کی وسطی ایشیائی سفارت کاری کے لیے ایک بڑا اسٹریٹجک دھچکا قرار دیتے ہوئے مودی حکومت کو اہم علاقائی منصوبوں کو برقرار رکھنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کانگریس کے رہنما جے رام رمیش نے کہا کہ بھارت کے-27 2026 کے بجٹ سے چابہار بندرگاہ کا بظاہر اخراج یا تو اس منصوبے سے دستبرداری یا تزویراتی سمجھ کے فقدان کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام بھارت کی طرف سے تاجکستان میں اپنے فضائی اڈے عینی کی بندش کے بعد دوسرا بڑا دھچکا ہے جس سے بھارت کا علاقائی اثرورسوخ کمزورہوا ہے۔جے رام رمیش نے نظم نسق میں تسلسل برقرار رکھنے میں ناکامی پر وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے دور میں شروع کیے گئے منصوبوں کو جاری رکھنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بھارت نے ایران اور افغانستان کے ساتھ سہ فریقی تعاون کی حکمت عملی کے تحت 2013 میں چابہار میں ابتدائی سرمایہ کاری کی منظوری دی تھی۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ اس منصوبے کا جمود خاص طور پر چین کی طرف سے تیار کردہ گوادر بندرگاہ کی قربت کے پیش نظرخطے میں بھارت کی اسٹریٹجک پوزیشن کو کمزور کرتا ہے، ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے منصوبوں کو آگے بڑھانے میں ناکامی بھارت کی علاقائی سفارت کاری کے لئے ایک بڑا دھچکا ہے جو اس کی طویل مدتی خارجہ پالیسی کی سمت کے بارے میں سوالات کھڑا کرتی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button