مودی حکومت لداخ خطے کے لوگوں کے مطالبات پر توجہ دے، پرینکا چترویدی
نئی دلی:
بھارت میں شیو سینا کی رہنما اور پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا کی رکن پرینکا چترویدی نے مودی حکومت طرف سے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیرکے خطے لداخ سے تعلق رکھنے والے معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی طویل نظر بندی کو شرمناک قراردیا ہے۔ وانگچک کو تقریبا چھ ماہ کی غیر قانونی قید سے حال ہی میںرہاکیاگیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایک میڈیا انٹرویو میں پرینکا چترویدی نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ لداخ کے لیے وانگچک کے دیرینہ مطالبات پر توجہ دے اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرے۔انہوںنے کہا کہ سونم کو جائز مطالبات کی پاداش میں حراست میں رکھا گیا۔انہوںنے کہا کہ خطے کے لوگوں کے جازءمطالبات پر فوی توجہ دی جانی چاہیے ۔ ا
59 سالہ وانگچک کو رواں ماہ کی14 تاریخ کو راجستھان کی جودھ پور سنٹرل جیل سے تقریباً 170 دن کی حراست کے بعد رہا کیا گیا ۔ انہیں ستمبر 2025 میں لیہہ میں لداخ کو مکمل ریاست کا درجہ دینے، آئین کے چھٹے شیڈول کے نفاذ سمیت دیگر مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہروں کے دوران حرات میں لیا گیا تھا۔ مظاہرین پر بھارتی فورسز کی وحشیانہ فائرنگ کے نتیجے میں چار شہریوں کی جانیں چلی گئی تھیں جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ وانگچک پر مظاہرے بڑھکانے کا الزام عائد کیا گیاتھا۔۔








