حریت کانفرنس کا چٹھی سنگھ پورہ سمیت کشمیریوں کے قتل عام کے تمام سانحات کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ
سرینگر: کل جماعتی حریت کانفرنس نے غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرکے ضلع اسلام آباد کے علاقے چٹھی سنگھ پورہ میں سکھ برادری کے 35افراد کے اجتماعی قتل سمیت بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کے قتل کے تمام سانحات کی بین الاقوامی ایجنسیوں کے ذریعے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان عبدالرشید منہاس نے چٹھی سنگھ پورہ میں سکھوں کے قتل عام کو 26برس مکمل ہونے کے موقع پر سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی فوج اور اس کی ایجنسیوں نے اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کے دورہ بھارت کے موقع پر کشمیر یوں کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی کو اقوام عالم میں بدنام کرنے کے لیے اس قتل کی منصوبہ بندی کی۔انہوں نے کہاکہ 20مارچ 2000 کے دن بھارتی فوجی بھیس بدل کر چٹھی سنگھ پورہ گائوں میں داخل ہوئے اور دنیا کو یہ تاثر دینے کے لیے سکھوں کا قتل عام کیا کہ اس میں کشمیری مجاہدین ملوث ہیں ۔ اس سانحے کے پانچ دن بعد، بھارتی فوج نے 6 بے گناہ کشمیریوں کو گرفتار کر کے پتھری بل میں ایک جعلی مقابلے میں شہید کر دیا۔ فوجیوں نے ان بے گناہ کشمیریوںکو غیر ملکی عسکریت پسند قرار دیکر قتل کیا ، جنہیں چٹھی سنگھ پورہ میں سکھوں کے قتل عام کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ تاہم تحقیقات نے بھارتی پروپیگنڈے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے تصدیق کی گئی کہ پتھری بل میں شہید کئے گئے تمام نوجوان مقامی دیہاتی تھے اور انہیں بھارتی فوجیوں نے اپنے گھنائونے جرائم چھپانے کے لیے قتل کیا ۔انہوں نے کہاکہ چٹھی سنگھ پورہ جیسے سانحات کا مقصد کشمیریوں کی جائز جدوجہد آزادی کو بدنام اوراسے دہشت گردی سے منسلک کرنے کی کوشش تھی ۔حریت ترجمان ے افسوس کا اظہار کیا کہ سانحہ چٹھی سنگھ پورہ کی برسی آج خوشی کے عالمی دن کے موقع پر منائی جارہی ہے ۔ یہ دن مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ پورے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوں کا قتل عام ، جبری گرفتاریاں اور کریک ڈائونز کی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔







