20 مارچ 2000 کو امریکی صدر بل کلنٹن کے ہندوستان کے سرکاری دورے کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) کے چٹی سنگھ پورہ گاؤں میں 35 سکھ دیہاتیوں کا بھارتی ایجنسیوں نے اجتماعی قتل کیا۔
بھارت تحریک آزادی کشمیر کو دہشت گردی کا رنگ دینا چاہتا تھا مگر اس قتل عام نے بھارت کو ایکسپوز کیا ۔
تاہم اج تک چھٹی سنگھ پورہ قتل عام کے لواحقین کو انصاف نہیں ملا ہے ۔
بھارتی ایجنسیوں اور قابض فوج نے اس قتل عام کو چھپانے کے لئے اور اس سے دہشت گردی کا رنگ دینے کے لئے نصف درجن سے زائد معصوم کشمیریوں کو گھروں سے گرفتار کر کے انہیں فرضی انکاؤنٹر میں شہید کیا تھا اور انہیں غیر ملکی عسکریت پسند قرار دیا تھا تاہم تحقیقات کے بعد بھارت کا گھناؤنا چہرہ ایک مرتبہ پھر بے نقاب ہوا جب ضلع اسلام آباد میں کشمیری عوام نے ایک احتجاجی مظاہرے میں شہید کشمیریوں کی قبر کشائی کا مطالبہ کیا تاکہ اس دوران گھروں سے گرفتار لاپتہ افراد کی شناخت کی جائے کہ آیا یہ لوگ وہی تو نہیں جو اس سانحے کے دوران گرفتار ہوئے تھے؟
بھارتی ایجنسیوں کا یہ کھیل بھی ایکسپوز ہوا جب قبر کشائی کے بعد ضلع اسلام آباد کے مجسٹریٹ نے کہا کہ جانبحق افراد چھٹی سنگھ پورہ قتل عام میں ملوث نہیں تھے بلکہ بھارتی فوج اور ایجنسیوں نے بے گناہ لوگوں کو گرفتار کیا تھا اور انہیں جعلی مقابلے میں شہید کردیا گیا تھا۔
اس دوران جان بحق افراد کی تعداد 49 تک پہنچ گئی ہے ۔
یہ دلخراش سانحہ چھٹی سنگھ پورہ پتھربل اور براکپورہ آج بھی ہمیں یاد ہے اور آج کا دن انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے لئے سوالیہ نشان ہے کہ اخر لواحقین انصاف سے محروم کیوں ہیں ۔ کیا اسی طرح سے کشمیریوں کا قتل عام ہو اور عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہیں ۔







