مقبوضہ جموں و کشمیر

سرینگر:بھارتی انتظامیہ نے جامع مسجد سیل کر کے عید نماز کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی

میرواعظ مسلسل گھر میں نظربند

سری نگر:بھارت کے غیرقانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نئی دلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت انتظامیہ نے آج مسلسل آٹھویں برس سرینگر کی تاریخی جامع مسجد سیل کر کے کشمیری مسلمانوں کو یہاں عیدنماز کی ادائیگی سے روک دیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انتظامیہ نے شہر کے علاقے نوہٹہ میں واقع جامع مسجد کے دروازے آج علی الصبح بند کر دیے اور مسجد کے اطراف میں بڑی تعداد میں بھارتی فورسز اہلکارتعینات کردیے۔
انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ عمر فاروق کو آج بھی گھر میں نظر بند رکھا۔ انہیں گزشہ روز بھی نظر بند کر کے نماز جمعہ کیلئے جامع مسجد جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
میر واعظ عمر فاروق نے” ایکس ”پرایک بیان میں جامع مسجد کی بندش کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے اس برس بھی مسجدعیدنماز کیلئے بندکردی اورمجھے بھی گھرمیںنظربندرکھا۔ انہوںنے کہا کہ خوشی کایہ دن کشمیری مسلمانوںکیلئے ذہنی اذیت اورکرب میںبدل گیا۔میرواعظ نے کہاکہ یہ ستم ظریفی ہے کہ ہماری مساجد اور عیدگاہوں کو تالے لگانے والے ہی سب سے پہلے ہمیں عید مبارک دیتے ہیں۔
دریں اثنا انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے بھی مسجد سیل کیے جانے پرگہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ حکام نے ایک بار پھر مسجد کے دروازے بند کر دیے اور اسکے اطراف میں فورسز کی بھاری نفری تعینات کر کے یہاں عیدنماز ادا نہیںکرنے دی۔ یاد رہے کہ اگست 2019میں جموںوکشمیرکی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے جامع مسجد سرینگر متواترطورپرعیدنمازکیلئے بندکردی جاتی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button