بھارت

امریکی ریاست سیاٹل میں خالصتان ریفرنڈم کی تیاریاں مکمل

آئندہ 10 سے 15 برس میں بھارت کا نقشہ بدل سکتا ہے

واشنگٹن: امریکی ریاست سیاٹل میں خالصتان ریفرنڈم کے انعقاد کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں جہاں ووٹنگ اتوارکے روز مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجے شروع ہوگی۔
کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ریفرنڈم ”سکھس فار جسٹس“ کی عالمی مہم کا حصہ ہے جبکہ اس کی قیادت گورپتونت سنگھ پنوں کر رہے ہیں۔ڈاون ٹاون سیاٹل میں خالصتانی جھنڈے لہرا دیے گئے ہیں اور شہر کے وسط میں ایک دیوقامت خالصتانی پرچم بھی نصب کیا گیا ہے۔ ریفرنڈم میں شرکت کیلئے ہزاروں سکھ ووٹرز سیاٹل پہنچ رہے ہیں، مقامی سکھ تنظیموں نے کھانے پینے اور دیگر سہولیات کے انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔یہ سیاٹل میں اپنی نوعیت کا پہلا ریفرنڈم ہے۔ اس سے قبل کینیڈا کے شہر اوٹاوا میں 23 نومبر 2025 کو خالصتان ریفرنڈم منعقد ہوا تھا جبکہ لندن، ٹورنٹو، وینکوور، روم اور جنیوا سمیت دنیا کے مختلف شہروں میں بھی ریفرنڈم ہو چکے ہیں۔ گزشتہ ریفرنڈمز میں لاکھوں سکھوں نے خالصتان کے حق میں ووٹ ڈالے۔امریکی حکومت نے بھارتی مخالفت کے باوجود ریفرنڈم کی اجازت دی۔ سکھ رہنماو¿ں کاکہنا ہے کہ بھارت بیرون ملک سکھ رہنماو¿ں کو نشانہ بنا رہا ہے، جون 2023 میں کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کا الزام بھی بھارت پر عائد کیا جاتا ہے۔گرپتونت سنگھ پنوں کا کہنا ہے کہ اگر بھارت کے مطابق ریفرنڈم کا کوئی اثر نہیں تو بیرون ملک سکھ رہنماو¿ں کو کیوں نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں موت کا خوف نہیں اور پنجاب کی مزاحمتی تاریخ کے باعث آئندہ 10 سے 15 برس میں بھارت کا نقشہ بدل سکتا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button