بھارت

بھارت خوف ودہشت اور شکوک و شبہات کے گہرے ماحول کی لپیٹ میں

عام شہریوں کو جاسوس قراردیکر ان کے خلاف کارروائیاں جاری

نئی دلی:خوف ودہشت اور شکوک و شبہات کے ایک گہرے ماحول نے پورے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، کیونکہ بھارتی حکام تیزی سے اپنے ہی شہریوں کو "جاسوس” قراردیکر انکے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں جس کو مبصرین سکیورٹی اوردا خلی عدم اعتماد کاشاخسانہ قراردے رہے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پولیس نے ایک نام نہاد پاکستان سے منسلک جاسوسی کیس کے سلسلے میں ایک خاتون اور ایک نابالغ لڑکے سمیت مزیدتین افراد کو گرفتار کیا ہے جس سے مقدمے میں گرفتار افراد کی مجموعی تعداد 18ہو گئی ہے جن میں 6 نابالغ بھی شامل ہیں۔متھرا ضلع کی رہائشی میرا ٹھاکر اور ہریانہ کے ضلع فرید آبادکے رہائشی 20سالہ نوشاد علی کو اتوار کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس کی طرف سے گرفتار کیاگیا تیسرا ملزم نابالغ ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد جس میں اکثر نوجوان اور پسماندہ افراد شامل ہوتے ہیں ایک پریشان کن رجحان کی عکاسی کرتا ہے جہاں عام شہریوں کو بڑے پیمانے پر سکیورٹی بیانیے میں جھونک دیا جاتا ہے، جس سے ملک بھر میں خوف کی فضا کو تقویت ملتی ہے۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزمان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور غیر رسمی چینلز کے ذریعے حساس معلومات شیئر کرنے میں ملوث تھے، ایک مشتبہ شخص نے مبینہ طور پر سکیورٹی تنصیبات اور ریلوے اسٹیشنوں کی جاسوسی کی۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے الزامات، جو شفاف عدالتی جانچ پڑتال کے بغیر کثرت سے پھیلائے جاتے ہیں، ایک ایسے بیانیے کا حصہ ہیں جو بے حسی کو ہوا دیتا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ عام شہریوں کے خلاف جاسوسی کے الزامات کا مقصد اندرونی چیلنجوں سے توجہ ہٹانا اور نگرانی اور پولیسنگ کو بڑھانے کے وسیع تر سیاسی مقاصد کی تکمیل ہے ۔انہوں نے خبردار کیاکہ اس طرح کے اقدامات سے سماجی تقسیم کو گہرا کرنے اور شہریوں اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کو ختم کرنے کا خطرہ ہے۔یہ مقدمہ، ابتدائی طور پر 13مارچ کو رپورٹ کیا گیا تھا،جس میں مزید گرفتاریوں کاخدشہ ہے۔ مبصرین سیکورٹی کے خطرات کے طور پر افراد کو اندھا دھند جاسوس قراردینے کے خلاف مناسب عمل اور احتیاط کی ضرورت پر زور دیتے ہیں اور اس طرح کا طرز عمل جمہوری اصولوں اور شہری آزادیوں کو نقصان پہنچاتاہے ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button