بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے بڑھتے ہوئے واقعات
نئی دہلی:مودی کے بھارت میں ہرگزرتے دن کے ساتھ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے واقعات بڑھتے ہی جارہے ہیں ، تازہ ترین واقعے میںدہلی میں ایک بائیک ٹیکسی سروس” ریپیڈو “کے ڈرائیور نے ایک مسلمان سواری کو رائیڈ دینے سے منع کر دیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یہ واقعہ عید کے روز21 مارچ کو پیش آیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔ٹائمز آف انڈیا کی خبر کے مطابق کیرالہ کے رہائشی صحافی زین نے عید کے دن ریپیڈو ایپ کے ذریعے گاڑی بک کی تھی۔ ڈرائیورنے جس کی شناخت سبھاش راوت کے طور پرہوئی ہے، مسافر کی مذہبی شناخت پتہ چلنے کے بعد انہیں رائیڈ دینے سے منع کر دیا۔اس واقعے سے متعلق وائرل آڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ صحافی ڈرائیور سے پوچھتا ہے کہ کیا انہیں مسلمان ہونے کی وجہ سے منع کیا جا رہا ہے؟ اس پر ڈرائیور جواب دیتا ہے ،ہاں مسلمان میری گاڑی میں نہیں بیٹھ سکتے۔ڈرائیور کہتاہے کہ یہ اس کی ذاتی گاڑی ہے اور اس میں مسلمانوں کو بیٹھنے کی اجازت نہیں ہے۔ واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر لوگوں نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور ڈرائیور کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔معاملہ طول پکڑنے کے بعد ریپیڈو نے بھی عوامی طور پر معافی مانگتے ہوئے ڈرائیور کے رویے کوناقابل قبول قرار دیا۔ اخبار کے مطابق ریپیڈو نے ڈرائیور کی خدمات کو معطل کر دیا ہے۔ ریپیڈو کے ایک ترجمان نے کہاکہ ہم مذہب کی بنیاد پر امتیاز سمیت کسی بھی طرح کے امتیازی سلوک کی حمایت نہیں کرتے اور دہلی میں پیش آنے والے اس واقعے پر ہمیں افسوس ہے۔






