والدہ کو عمر قید کی سزا سنا نااختلاف رائے کودبانے کی منظم کوشش ہے:بیٹاآسیہ اندرابی
نئی دہلی : ایک بھارتی عدالت نے سینئر کشمیری رہنما آسیہ اندرابی کو عمرقید اور ان کی دو ساتھیوں کو30،30سال قید کی سزا سنائی ہے جس پر ان کے اہل خانہ کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اورانہوں نے اس اقدام کو اختلافی آوازوں کو دبانے کی منظم کوشش قرار دیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آسیہ اندرابی کے بیٹے نے فیصلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سزا سے اس بات کو یقینی بنایاگیاہے کہ قیدی کبھی بھی جیل سے باہر قدم نہیں رکھ سکیں یا اپنے اہل خانہ کے ساتھ دوبارہ نہ مل سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جیلوں کو ایسے افراد کی آواز کو دبانے کے لئے ایک ہتھیارکے طورپراستعمال کیاجارہا ہے جولوگوں کو اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا پیغام اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سیاسی اختلاف کو دبانے کی منظم کوشش کے تحت لوگوں کو عمر قید کی سزادی جارہی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ سزا کشمیری سیاسی شخصیات اور کارکنوں کے خلاف ظالمانہ اقدامات کی عکاسی کرتی ہے جس سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اختلاف رائے اور شہری آزادیوں کے لئے سکڑتی ہوئی گنجائش پر تشویش پائی جاتی ہے۔




