آسیہ اندرابی کو سنائی گئی سزا ظالمانہ اورناانصافی پر مبنی ہے : فاروق رحمانی
اسلام آباد : کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ کے سابق کنوینر اورجموں و کشمیر پیپلز فریڈم لیگ کے چیئرمین محمد فاروق رحمانی نے دہلی کی این آئی اے عدالت کی جانب سے دخترانِ ملت کی سربراہ سیدہ آسیہ اندرابی کو سنائی گئی دوہری عمر قید اور ان کی دو ساتھیوں کو 30 سال قید کی سزا سنانے کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق محمد فاروق رحمانی نے ایک بیان میں اس فیصلے کوظالمانہ، ناانصافی پر مبنی اور پہلے سے طے شدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کوخاص طور پرمقبوضہ جموں و کشمیر میں اختلاف رائے، آزاد ی صحافت، عدالتی غیرجانبداری اور انسانی حقوق کا کوئی احترام نہیں ۔فاروق رحمانی نے کہا کہ این آئی اے نے ایک ایسا رجحان اپنا لیا ہے جس کے تحت کشمیری قیادت کی تمام سیاسی، سماجی اور تعلیمی سرگرمیوں کو ہندوتوا نظریے کے تنگ اور متعصبانہ زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی حمایت یافتہ بی جے پی نے مسلم اکثریتی شناخت اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعے کے باعث کشمیر کے خلاف گہری دشمنی کو فروغ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگست 2019 کے بعد سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو بنیادی انسانی اور قانونی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے جب خطے کو دو یونین ٹیریٹوریز میں تقسیم کر کے بھارت میں ضم کر دیا گیا۔ حریت رہنما نے کہاکہ کشمیری سخت پابندیوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور کالے قوانین کی وجہ سے ان کی زندگی کو اجیرن کر دیاگیا ہے جبکہ لوگوں کی جائیدادیں ضبط کی جا رہی ہیں۔حریت رہنما نے کہا کہ سیدہ آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھی گرفتاری سے قبل تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں میں مصروف تھیں جن کا مقصد کردار سازی اور بنیادی سیاسی حقوق کے لیے آواز اٹھانا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے جموں و کشمیر کے عوام اور قانونی حلقوں میں شدید صدمہ اور اضطراب پایا جاتا ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور قانون کے عالمی ماہرین سے مطالبہ کیا کہ وہ اس متعصبانہ فیصلے کے خلاف آواز اٹھائیں۔







