کوٹلی :کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنمائوں کی پریس کانفرنس

کوٹلی: کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے رہنمائوں نے 10 دسمبرکو منائے جانیوالے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پرکوٹلی میں زبردست بھارت مخالف ریلی نکالنے کا اعلان کیاہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یہ اعلان کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ پرویزاحمد شاہ، سماجی کارکن ملک رضوان، ایڈوکیٹ محمود قریشی، راجہ خادم حسین شاہین، اعجاز رحمانی، زاہد صفی، زاہد اشرف اور شیخ عبدالماجد نے کوٹلی میں ایک پریس کانفرنس سے طاب کرتے ہوئے کیا۔مقررین نے کہاکہ پریس کانفرنس کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کی آواز کو عالمی سطح پر اجاگر کرناہے۔”ہم سرزمین کوٹلی میں ایک مقدس عہد کے ساتھ جمع ہوئے ہیں، وہ عہد جو ہمیں کشمیری عوام سے جوڑتا ہے جو آج بھی بھارتی فوج کے ظلم و جبر کا شکار ہیں۔”انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ سنگین صورتحال کو اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ وادی کشمیر جو کبھی قدرتی حسن و خوبصورتی کاشاہکار تھی ، آج دنیا کے طویل ترین عسکری محاصرے میں سسک رہی ہے۔ دس لاکھ سے زائد بھارتی قابض فوجیوں کی موجودگی میں مقبوضہ کشمیر کا ہر گھر، گلی اور بستی ایک زندان میں تبدیل ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں روزانہ چھاپے،تلاشی کی کارروائیاں، گرفتاریاںاورجعلی مقابلوں میں نوجوانوں کی شہادتیں اور ایک ایسے سانحے کی داستان ہے جو عالمی تاریخ کا سیاہ باب ہیں ۔مقررین نے کہاکہ اس وقت مقبوضہ کشمیرمیں پانچ ہزار سے زائد کشمیری غیر قانونی طورپر بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں،ظلم و تشدد، خواتین کی عصمت دری اور مہلک پیلٹ گنزکے ذریعے بچوں کو بصارت سے محروم کرنا یہ سب کشمیریوں کے وہ زخم ہیں جو اب ایک ناسور بن چکے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہزاروں کشمیری خاندان اپنے پیاروں کی تلاش میں برسوں سے در بدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں مگر انصاف کا دروازہ ان پر بند ہے۔ مقبوضہ علاقے میں اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغنعائد ہے ، لب کشائی جرم بن چکی ہے اور حق کی آواز قید کردی گئی ہے۔ کشمیر میں زندگی سسکتی ہے مگر انسانیت خاموش ہے۔5اگست 2019کے بھارت کے ظالمانہ، غیر قانونی اور سامراجی فیصلے نے کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کا کام کیاہے۔مقررین نے کہاکہ بھارت کا یہ اقدام نہ صرف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی بلکہ خود بھارت کے اپنے آئین کے بھی منافی ہے۔ بھارت کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزو کرنے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے۔ ڈاکٹرز، طلبا، محنت کش کوئی بھی محفوظ نہیں۔مقبوضہ کشمیر کی معیشت کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تباہ کیا جارہا ہے تاکہ کشمیریوں کو مجبور و بے بس کیا جاسکے۔انہوں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ، او آئی سی، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی میڈیا سے کشمیر کے مظلوم عوام کے حق میں آواز بلند کرنے کی اپیل کی ۔ انہوں نے انٹرنیشنل میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیموں کومقبوضہ کشمیر تک رسائی دینے ، تمام کشمیری سیاسی قیدیوں کی رہائی اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کا مطالبہ کیا کیونکہ یہ تنازعہ صرف سرحدوں کا نہیں بلکہ انسانیت کا مقدمہ ہے۔مقررین نے واضح کیاکہ کشمیری 78 برسوں سے ظلم کی تپش میں جل رہے ہیں مگر ان کا حوصلہ آج بھی پہاڑوں کی طرح مضبوط ہیں۔ انہوں نے10دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر آبشار چوک سے شہید چوک تک ایک ریلی نکالنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ صرف ایک مارچ نہیں، یہ مظلوم انسانیت کا قافلہ ہے، محکوموں کی فریاد ہے اور ظالم کے خلاف اجتماعی گواہی ہے۔ مقررین نے ضلع کوٹلی کے عوام خصوصا نوجوانوں، تاجروں، اساتذہ اور مذہبی و سماجی رہنماں سے اپیل کی کہ وہ اس کارروان احتجاج میں شامل ہوکر ثابت کریں کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام تنہا نہیں ہیں۔







