مقبوضہ کشمیر : بی جے پی اور آر ایس ایس ہندوتوا کے ایجنڈے کو آگے بڑھارہی ہیں
بانڈی پورہ میں بڑے پیمانے پر کمبھ میلے کے انعقاد کی منصوبہ بندی جاری

سرینگر: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)کے ہندوتوا نظریات کے زیر اثر مودی کی بھارتی حکومت مقبوضہ جموں کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں بڑے پیمانے پر کمبھ میلہ (ہندو مذہبی اجتماع)کے انعقاد کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ اقدام مقبوضہ علاقے کے ثقافتی اور مذہبی منظر نامے کو نئی شکل دینے کی مودی حکومت کی کوششوں کا حصہ ہے۔نو روزہ کمبھ میلہ بانڈی پورہ کے علاقے شادی پورہ میں 15جولائی سے 24جولائی کے دوران منعقد کیا جائے گا جس میں تین لاکھ سے زائد ہندو انتہاپسندوں کی شرکت متوقع ہے۔میلے کااعلان ہندوتوا لیڈر سوامی کالیکانند سرسوتی نے کیا ہے۔سرینگر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سوامی کالیکانند نے دعویٰ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں 2016میں ایک روزہ کمبھ میلہ منعقد ہوا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ کمبھ میلے کے دوران ایک آل مذہب کانفرنس بھی منعقد کی جائے گی جس میں تمام مذاہب کے لوگ شرکت کر سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج بھی کمبھ کے انعقاد میں سہولت فراہم کر رہی ہے۔مبصرین نے مقبوضہ کشمیر میں مذہبی تقریبات کے انعقاد میں واضح تضاد کی نشاندہی کی ہے ۔ بھارتی قابض انتظامیہ اکثر مسلمانوں کے مذہبی اجتماعات پر پابندیاں عائد کرتی ہے، جس میں تاریخی جامع مسجد سرینگر اور عیدگاہ میں جمعہ اور عید کی نماز بھی شامل ہے جبکہ ہندو امرناتھ یاترا سمیت ہندو تقریبات کے لیے بڑے پیمانے پر سہولیات فراہم کی جاتی ہے۔تجزیہ کار اور سیاسی مبصرین نے کہاہے کہ یہ منصوبہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی طرف سے مسلم اکثریتی جموں وکشمیر میں ہندوتوا کے نظریے کو فروغ دینے کی دانستہ کوشش ہے۔ناقدین اس اقدام کو براہ راست اگست 2019 میں دفعہ 370اور 35 اے کی منسوخی سے منسلک کرتے ہیں جس کے تحت جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کر دی گئی تھی ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منسوخی محض آئینی تبدیلی نہیں تھی بلکہ یہ مودی حکومت کی مقبوضہ کشمیر کی آبادی کے تناسب اور ثقافتی شناخت کو بدلنے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ تھی۔مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کشیدگی کو مزید بڑھانے اور مقامی آبادی کو پسماندہ رکھنے کے علاوہ کشمیر کے منفرد ثقافتی ورثے اور روایات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔




)

