مقبوضہ جموں وکشمیرمیں پانچ ہمالیائی برفانی جھیلوں سے شدید سیلاب کا خطرہ: ماہرین
2,700 سے زائد عمارتیں، بنیادی ڈھانچے کے اہم ادارے خطرے کی زد میں
سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کوہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں کم از کم پانچ ایسے برفانی جھیلوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو گلیشیر پھٹنے کے باعث آنے والے سیلاب کے خطرے سے دوچار ہیں جس کی زد میں 2,700 عمارتیں اور بنیادی ڈھانچے کے اہم ادارے آسکتے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ انکشاف نیشنل کانفرنس کی زیر قیادت کٹھ پتلی حکومت نے جموں میں قانون ساز اسمبلی میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ کٹھ پتلی حکومت نے کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ جیو انفارمیٹکس کی طرف سے کی گئی اور جرنل آف گلیشیالوجی میں شائع ہونے والی ایک حالیہ سائنسی تحقیق کا حوالہ دیا۔ تحقیق میں 155 برفانی جھیلوں کا تجزیہ کیا گیاجس میں ہائیڈرو جیومورفک صورتحال جیسے کہ جھیل کی توسیع کی شرح، ڈیم کا استحکام اور ارد گرد کے ماحولیاتی حالات شامل ہیں۔ اس تجزیے کی بنیاد پر پانچ جھیلوں برمسر، چرسر، نندکول، گنگبل اور بھگسر کوبہت زیادہ حساس قراردیاگیا جو علاقے کی دیگر جھیلوں کے مقابلے میں زیادہ خطرے سے دوچارہیں۔محققین نے خبردار کیا کہ برفانی جھیل کے قدرتی ڈیم کی اچانک ناکامی سے آنے والے ایک بڑے سیلاب کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ تحقیق میں کہاگیا ہے کہ تقریباً 2,704 عمارتیں، 15 بڑے پل، اہم سڑکوں کے حصے اور کم از کم ایک پن بجلی منصوبہ ممکنہ متاثرہ علاقوں میں آتے ہیں۔تاہم حکومت نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کی درجہ بندی کا مطلب کوئی فوری خطرہ نہیں ہے ، تاہم اس سے شدید بارش، تیزی سے برف پگھلنے یا زلزلے سے پیدا ہونے والے امکانات کی نشاندہی ہوتیہے۔خطرے کی درست تشخیص میں فرق کو اجاگر کرتے ہوئے تحقیق میں کہا گیا کہ گلیشر پھٹنے کے باعث آنے والے سیلاب کی درست تشخیص کے لیے برفانی جھیلوں کے حجم کے قابل اعتماد ڈیٹا کی ضرورت ہوتی ہے جو صرف آبی ذخائر کی گہرائی اور ٹوپوگرافی سے ہی حاصل کیاجاسکتا ہے اوریہ فی الحال زیادہ تر ہمالیائی جھیلوںکی دستیاب نہیںہے، تاہم محققین نے اس سمت میں کام پہلے ہی شروع کر دیا ہے۔





