اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ہائی کمشنر سے جعلی مقابلوں میں کشمیری نوجوانوں کے قتل کا نوٹس لینے کی اپیل

اسلام آباد :کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیرشاخ کے سینئر رہنما سید فیض نقشبندی نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ہائی کمشنر پر زور دیا ہے کہ وہ بھارتی فورسز کی طرف سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں بیگناہ نوجوانوں کے جعلی مقابلوں میں بہیمانہ قتل کا نوٹس لیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فیض نقشبندی نے اسلام آباد میں جاری ایک بیان مقبوضہ وادی کے ضلع گاندربل میں حالیہ جعلی مقابلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقتول رشید احمد مغل ایک عام شہری تھا جس کا عسکریت پسندی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوجیوں نے نوجوان کو محاصرے اور تلاشی کی ایک نام نہاد کارروائی کے دوران جعلی مقابے میں شہید کیااور بعد ازاں اسے عسکریت پسند قرار دیا۔
انہوں نے مقبوضہ علاقے میں بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے معیارات کی خلاف ورزی پر بھارت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ وحشیانہ کارروائیاں غیر قانونی قبضے کو مستحکم کرنے کی منظم کوشش کا حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز نے 1989 سے اب تک مقبوضہ جموں و کشمیر میں 96 ہزار سے زائد مرد، خواتین اور بچوں کو قتل اور ہزاروں افراد لاپتہ کیے ہیں۔
سید فیض نقشبندی نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنے اور دیرینہ تنازعہ کشمیر کو اپنی پاس کردہ قراردادوں کے مطابق حل کیلئے بھارت پر دباو ڈالے۔








