مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں وکشمیر میں منشیات کے بڑھتے ہوئے پھیلاﺅ میں قابض فورسز ملوث ہیں

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں منشیات کے بڑھتے ہوئے پھیلاﺅ نے سنگین رخ اختیارکیا ہے جہاں ساڑھے 13لاکھ سے زائد افراد اس لعنت کا شکار ہیں جن میں زیادہ تر نوجوان ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حالیہ برسوں میں علاقے میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد تقریباً دوگنی ہو گئی ہے جو 2022 میں تقریباً 6لاکھ سے بڑھ کر اب ساڑھے 13لاکھ تک پہنچ گئی ہے جس سے صحت عامہ اورسماج کی سنگین صورت حال کی عکاسی ہوتی ہے۔ سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی منشیات ہیروئن ہے اور وادی کشمیر میں تقریباً 90 سے 95 فیصد افراد اسی کا استعمال کرتے ہیں۔ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نشے کے عادی افراد کی ایک بڑی تعداد اب منشیات کے انجیکشن کا سہارا لیتی ہے اور آلودہ سرنجوں کے استعمال کی وجہ سے انہیں ہیپاٹائٹس سی اور ایچ آئی وی جیسی خون سے لگنے والی مہلک بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار چرس، نشہ آورادویات اورشراب سمیت دیگر منشیات کے پھیلاو¿ کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ بڑھتے ہوئے جرائم سے بھی بحران کی سنگینی ظاہر ہوتی ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق انسداد منشیات کے قانون کے تحت درج ہونے والے کیسوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور سالانہ سینکڑوں کیسز درج کیے جاتے ہیں۔ 2022 سے لے کر اب تک حکام نے مقبوضہ علاقے میں منشیات سے متعلق 32ہزار سے زیادہ مقدمات درج کیے ہیں۔مبصرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ منشیات کے استعمال میں خطرناک حد تک اضافے کو الگ تھلک کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ کئی کشمیری سیاسی رہنماو¿ں، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور تجزیہ کاروں نے بارہا کہا ہے کہ کشمیری معاشرے کے سماجی تانے بانے کو کمزور کرنے اور خاص طور پر نوجوانوں کو نشانہ بنانے کے لیے بھارتی فورسز ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت علاقے میں منشیات کے پھیلاو¿ میں سہولت فراہم کررہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگست 2019 کے بعد علاقے میں بھارتی فوجیوں کی تعداد میں اضافے اوربڑھتے ہوئے سیاسی جبر کے ساتھ ہی منشیات کے پھیلاﺅ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کشمیری نوجوانوں کو حق خود ارادیت کی جدوجہد سے دوررکھنے اور انہیں نشے اور سماجی تنزل کی طرف دھکیلنے کے لیے منشیات کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔یہ مسئلہ خاص طور پر سرینگر، اسلام آباد، پلوامہ اور بارہمولہ جیسے اضلاع میں سنگین رخ اختیارکرگیاہے جہاں اکثر ہیروئن اوردیگر منشیات پکڑی جاتی ہیں۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں قابض فورسز کی سرپرستی میں منظم نیٹ ورکس اس کے پھیلاﺅ میں ملوث ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button