مقبوضہ جموں وکشمیر:اسلام آباد میں محکمہ تعلیم کے ملازمین کا احتجاج، مطالبات کی فوری منظوری کا مطالبہ
سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے ضلع اسلام آباد میں محکمہ تعلیم کے ملازمین نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ حکام ان کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ضلع اسلام آباد میں محکمہ تعلیم میں کام کرنے والے ملازمین بالخصوص خواتین نے منگل کے روز قابض حکام کے خلاف ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا اور اپنے دیرینہ مسائل کے فوری حل کا مطالبہ کیا۔ احتجاج میں خواتین سمیت سینکڑوں ملازمین نے شرکت کی اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے بھرپور آواز بلند کی۔ احتجاجی ریلی وزیر باغ سے شروع ہوئی اور لال چوک سے گزرتی ہوئی ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے دفتر تک پہنچی۔ مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرہ بازی کرتے ہوئے قابض حکام سے مطالبہ کیا کہ ان کے مسائل کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ ریلی میں شرکت کرنے والی خواتین نے انہیں درپیش مشکلات اور مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں طویل عرصے سے نظرانداز کیا جا رہاہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام ان کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ محدود وسائل اور مشکلات کے باوجود پوری دیانتداری اور لگن کے ساتھ اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں بنیادی سہولیات اور حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ مظاہرین کے ایک وفد نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ایک مفصل یادداشت پیش کی جس میں ان کے تمام مطالبات اور مسائل کو تفصیل سے بیان کیا گیاہے۔ وفد نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کرکے ان کے مسائل کو حل کرے اور انہیں انصاف فراہم کرے۔ مظاہرین نے خبردارکیاکہ اگر ان کے مطالبات کو جلد از جلد منظور نہ کیا گیا تو وہ آنے والے دنوں میں اپنے احتجاج میں مزید وسعت اورشدت لائیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔








