تنازعہ کشمیر ایک ایٹمی فلیش پوائنٹ ہے، عالمی برادری فوری مداخلت کرے :حریت کانفرنس
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہاہے کہ تنازعہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں ایک جوہری فلیش پوائنٹ ہے جو علاقائی اور عالمی امن کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ تنازعہکشمیر جوہری ہتھیاروں سے لیس دو ہمسایہ ممالک کے درمیان تباہ کن ایٹمی جنگ کا باعث بن سکتا ہے اس لئے عالمی برادری کو فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل تاخیر سے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی استحکام کے لیے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ ترجمان نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں پر زوردیا کہ وہ بیان بازی سے آگے بڑھیں اور دہائیوں پرانے تنازعے کو حل کرانے کے لئے فیصلہ کن اقدامات کریں۔انہوںنے کہا کہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعے کا منصفانہ اور جامع حل خطے میں دیرپا امن کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔ ترجمان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل میں تاخیر سے پہلے ہی انسانی مشکلات اور عدم استحکام پیداہواہے اور مزید تاخیر سے کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ صورتحال کی سنگینی کا ادراک کریں اور ممکنہ تباہی کو روکنے کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کریں۔ حریت ترجمان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ایک تنازعہ ہے اور بھارت اسے نظرانداز یا ایک اندرونی معاملے کے طورپر پیش نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا انحصار تنازعے کی بنیادی وجہ پر توجہ دینے پرہے جو کشمیری عوام کے حق خودارادیت سے انکار ہے۔ بیان میں انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور امن پسندوںپر زور دیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ علاقے میں جاری صورتحال پر اپنی آواز بلند کریںاور مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے پرامن حل پر زور دیں۔ بیان میں کہاگیا کہ بین الاقوامی برادری کی خاموشی سے صرف جارحانہ پالیسیوں کی حوصلہ افزائی ہو گی اور بحران مزید سنگین ہوگا۔






