مقبوضہ جموں وکشمیر میںامریکہ اورایران کے درمیان جنگ بندی پرجشن کا سماں، مٹھائیاں تقسیم
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں لوگوں نے ایران اورامریکہ کے درمیان جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل کر جشن منایا اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے راحت کی سانس لی اور خوشی کا اظہار کیا۔ لوگوں نے جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اجتماعات منعقد کیے ، دعائیہ مجالس کا اہتمام کیا اور امن کے حق میں نعرے بلند کیے۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں اگر کوئی بھی بڑی جنگ ہوتی تو جنگ کے اثرات پوری دنیا پر پڑتے، اس لیے جنگ بندی کا اعلان عالمی امن کے لیے مثبت قدم ہے۔ سماجی کارکنوں اور مذہبی شخصیات نے اس موقع پر کہا کہ جنگ بندی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ مسائل کا حل مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے نکالا جائے تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ شہریوں نے امید ظاہر کی کہ یہ جنگ بندی مستقل امن کی طرف ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگی اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے کی راہ ہموار کرے گی۔ امریکہ اور ایران کی جانب سے دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد پوری وادی کشمیر کی طرح سرینگر میں بھی منگل کو لوگوں نے پٹاخے پھوڑنے کے ساتھ جشن کا سماں باندھا اور اسے ایران کی فتح قرار دیا۔ لوگوں نے شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصویریں اٹھا رکھی تھیں، وہ سڑکوں پر اکٹھے ہوئے اور جشن منایا۔پلوامہ ، باندی پورہ ، بڈگام اوریگر اضلاع میں بھی لوگوں نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایران کی فتح قراردیا۔ لداخ اورکرگل میں لوگوں نے جنگ بندی کو ایران اور اس کے اتحادیوں کی بڑی جیت قراردیتے ہوئے جشن منایا۔کرگل کے ایک رہنما سجاد کرگلی نے کہا کہ یہ ایران اور اسلامی مزاحمتی محاذ کے لیے ایک بڑی جیت ہے جو امریکہ اور اسرائیل کے خلاف لڑ رہے تھے۔








