بھارت نے”سمارٹ وار“نظریے کے مطابق جنگی تیاریاں تیز کر دیں
سرینگر : بھارت کی اعلیٰ عسکری قیادت نے جدید اورجارحانہ جنگی حکمت عملی کی وکالت کرتے ہوئے خطے میں روایتی تنازعات سے نمٹنے کے لیے نام نہاد”سمارٹ وار“ کے لیے تیار رہنے کی ضرورت پر زور دیا ہے جس سے خطے میں مزید فوجی تعیناتی کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت کے چیف آف ڈیفنس سٹاف انیل چوہان نے کہا ہے کہ ملک کی متنازعہ سرحدوں کو دیکھتے ہوئے نئی دہلی کو زمینی، فضائی اور سمندر میں لڑی جانے والی روایتی لڑائیوں کے ساتھ ساتھ تکنیکی لحاظ سے جدید جنگیں لڑنے کے لیے تیاری کرنی چاہیے۔ انہوں نے سائبر، الیکٹرو میگنیٹک سپیکٹرم اور خلاءجیسے جدید جنگی میدانوں کو غیر متوقع اور تزویراتی عدام توازن پیدا کرنے والے ذرائع قرار دیا۔یہ بیان بنگلورو میں بھارت کی وزارت دفاع کے زیر اہتمام’ ’رن سمواد“ کے زیر عنوان دو روزہ اجلاس کے دوران سامنے آیا جہاں سینئر فوجی کمانڈروں نے مستقبل کی جنگی حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیا۔
دریں اثناءبھارتی فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دویدی نے انکشاف کیاہے کہ جدید ٹیکنالوجیز کی شمولیت سے فوج ایک بڑی تبدیلی سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے تصوراتی منصوبہ بندی، ساختی تبدیلیوں اور نظر آنے والے آپریشنل نتائج پر مشتمل تین مرحلے کے طریقہ کار کا خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون، سگنلز اور سائبر آپریشنز کے لیے خصوصی یونٹ پہلے ہی قائم کیے جا چکے ہیں۔دفاعی ماہرین ان پیش رفتوںکو بھارت کے ملٹی ڈومین آپریشنز (ایم ڈی او) کی طرف پیش قدمی کے طور پر دیکھتے ہیں جس کے تحت زمین، ہوا، سمندر، سائبر اور خلا ئی صلاحیتوں کو مربوط کیا جاتا ہے۔ بھارتی فوج 2024 سے جنگی مشقیں کر رہی ہے، جبکہ اگست 2025 میں متعارف کرایا گیا ایک مشترکہ نظریہ تینوں افواج کے لیے ایک متحد آپریشنل فریم ورک فراہم کرتا ہے۔تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے بیانات اور فوجی تیاریاں خاص طور پر مقبوضہ جموں وکشمیر سمیت ان خطوں میںبھارت کی جنگی صلاحیتوں کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنے کی عکاسی کرتی ہے جہاں دیرینہ تنازعات موجود ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ”سمارٹ وارز“ اورتکنیکی غلبے پر زور سے جنوبی ایشیا میں کشیدگی اور عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔”رن سمواد“میں بحث ومباحثے سے جس میں بھارتی افواج کو پیچیدہ اور کثیر الجہتی تنازعات کے لیے تیار کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی، روایتی فوجی حکمت عملیوں کے ساتھ ساتھ ہائی ٹیک جنگی نظریے کی طرف منتقلی کا اشارہ ملتا ہے۔







