مقبوضہ جموں و کشمیر

ہندو انتہاپسندوں کے تشددسے بچنے کے لئے مسلمان نوجوان کی نہرمیں چھلانگ

رام بن میں احتجاجی مظاہرے ، ہائی وے بند ،ضلع بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے ضلع رامبن میں ہندو انتہاپسندوں کے تشددسے بچنے کے لئے ایک مسلمان نوجوان نے نہرمیں چھلانگ لگائی جس کے بعدوہ لاپتہ ہوگیا، لوگوں نے واقعے کے خلاف زبردست احتجاج مظاہرے کئے اور سرینگر جموں ہائی وے کو بند کردیا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ضلع کے علاقے پوگل کا رہائشی 25سالہ نوجوان تنویر احمد چوپان اتوار کی شام اپنے گھر جارہاتھا اورنام نہاد گاﺅ رکھشکوں (گائے کے محافظوں)نے اسکا پیچھا کرکے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ تنویر نے جان بچانے کے لئے مکرکوٹ کے قریب نالہ بشلری میں چلانگ لگادی جس کے بعد وہ لاپتہ ہے۔ احتجاجی مظاہرین نے واقعے میں ملوث افراد کی فوری گرفتاری اورنالہ بشلری میں ریسکیوآپریشن کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے جسے گزشتہ رات اندھیرے کی وجہ سے روک دیاگیاتھا۔ پولیس نے واقعے کی ایف آئی آر درج کرکے چارافرادکو گرفتارکیاہے جن کی شناخت سرجیت سنگھ، سندیپ سنگھ، دگ وجے سنگھ اورکیول سنگھ کے طورپر ہوئی ہے۔ مقامی لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے سرینگرجموں شاہراہ کو بند کردیا ہے ۔ انہوں نے پولیس کی غیرجانبداری اورشفافیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ گرفتارافراد کو رامسوتھانے میں نہیں رکھا گیااورایف آئی آر کی کاپی عوام کو فراہم نہیں کی جارہی ہے۔ حکام نے بتایاکہ واقعے کی تحقیقات کے لئے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس کی سربراہی ایس ڈی پی او بانہال سریندر سنگھ بلوریا کررہے ہیں ۔ پولیس حکام نے جائے احتجاج کا دورہ کرکے مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ احتجاج ختم کرکے ٹریفک کی بحالی میں تعاون کریں۔
دریں اثناءاحتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے ضلع رام بن میں انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی ہے۔ ٹریڈرز فیڈریشن بانہال کے صدر انجینئر شاداب احمد وانی نے واقعے کے خلاف ہڑتال کی اپیل کی تھی تاہم انتظامیہ کی طرف سے شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کے بعدیہ کال واپس لی گئی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button