نئی دلی: نوجوانوں میں ترشولوں کی تقسیم کے بعد کشیدگی میں اضافہ
نئی دلی: بھارت کے دارالحکومت نئی دلی کے علاقے اتم نگر میں ایک ہندوتوا تقریب کے دوران نوجوانوں میں ترشول تقسیم کے بعد ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ تقریب ہندوتوا تنظیم وشو ہندو پریشدکے زیر اہتمام 12 اپریل کو ہستسال کے اییاپا پارک میں منعقد ہوئی، جس میں مبینہ طور پر نوجوانوں میں تقریبا 1,700ترشول تقسیم کیے گئے۔ منتظمین نے اسے ترشول دیکشا پروگرام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد خدمت، اقدار اور تحفظ کا پیغام دینا تھا۔یاد رہے کہ اس سے قبل 4 مارچ کو ہولی کے موقع پر دو مختلف برادریوں کے درمیان تنازعے کے نتیجے میں ایک نوجوان ترون کھٹک ہلاک ہو گیا تھا، جس کے بعد علاقے میں صورتحال میں حالات کشیدہ ہیں ۔ پولیس کے مطابق اس واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔تاہم حالیہ ہندوتواتقریب اورترشولوں کی تقسیم کے بعد مقامی لوگوں میں دوبارہ تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ بعض رہائشیوں کا کہنا ہے کہ خاص طورپر اس مقام کے قریب ہندوتوا تقریب کا انعقاد ،جہاں پہلے تشدد ہو چکا ہو، خوف اور بے یقینی کو بڑھاتا ہے۔بعض اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تقریب کے دوران اسٹیج سے نفرت انگیز تقاریر کی گئیں ، تاہم پولیس کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔مقامی افراد نے امن وامان کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علاقے میں دوبارہ کشیدگی پیدا ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں اور ایسے اقدامات سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔







