خالصتان نواز کارکنوں کے خلاف بھارتی مہم تنقید کی زد میں
نئی دہلی: خالصتان تحریک کے حامیوں کو نشانہ بنانے کے لئے بین الاقوامی مہم پر بھارت کو شدید تنقید کا سامنا ہے اورانسانی حقوق کے کارکنان اور مبصرین دوسرے ممالک میں لوگوں کو ہراساں کرنے اوردبانے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق نریندر سنگھ سرے سمیت سکھز فار جسٹس (ایس ایف جے) سے وابستہ رہنماو¿ں کا کہناہے کہ بھارت سکھوں کے حق خود ارادیت کی وکالت کرنے والی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔ نریندر سنگھ سرے ریفرنڈم منعقد کرانے اور ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے سلسلے میں انصاف کا مطالبہ کرنے والوں میں شامل ہے۔
دریں اثناءکینیڈا میں سکھ کارکنوں نے ہردیب سنگھ نجر کے قتل کو 1,030 دن مکمل ہونے پر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے بھارتی قونصل خانے تک جانے والے راستے کو بند کردیا، بھارتی پرچم اتاردیے اوربھارت کے سفارتی مشنز کو بند کرنے کا مطالبہ کیا جس سے بیرون ملک مقیم سکھوںمیں بڑھتے ہوئے غصے کی عکاسی ہوتی ہے۔مظاہرین نے بھارت کے خلاف بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے انتہا پسندی اور تشدد کی علامت قراردیا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان واقعات سے بھارت کی پالیسیوں اور بیرون ملک مقیم اختلافی آوازوں کو دبانے کی بین الاقوامی نگرانی بڑھ گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ سفارتی تعلقات پر اس مسئلے کے دوررس اثرات ہوتے ہیں اور عالمی سطح پر سیاسی سرگرمیوں اور شہری آزادیوں کے تحفظ کے حوالے سے سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی بھارتی حکام اور سکھ برادری کے درمیان بڑھتی ہوئی تقسیم کوظاہر کرتی ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر احتساب اور انصاف کا مطالبہ زور پکڑرہا ہے۔







