ہندواڑہ میں سرکاری اسکولوں میں کام کرنے والے باورچیوں کا احتجاجی مظاہرہ
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے ضلع کپواڑہ میں مختلف اسکیموں کے تحت سرکاری اسکولوں میں کام کرنے والے باورچیوں نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور کم از کم اجرت کے قانون کے مطابق تنخواہیں نہ ملنے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق باورچیوں نے ہندواڑہ کے چنار پارک میں پرامن احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کئی دہائیوں سے ریگولر ملازمین کے برابر کام کر رہے ہیں لیکن ہر حکومت نے ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا اور ان کے مطالبات پورے نہیں کئے۔احتجاج کرنے والے باورچیوں نے جن میں زیادہ تر خواتین ہیں،قابض حکام پر زور دیا کہ وہ یا تو اسکولوں میں دوپہر کے کھانے کی اسکیم کو بند کردیں یا ان کی منصفانہ اور باقاعدہ اجرت کو یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی صرف 30 روپے یومیہ اجرت بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھی ناکافی ہے۔ہم صرف 30 روپے یومیہ کما رہے ہیں، ہم آج کے دور میں کیسے زندہ رہ سکتے ہیں؟مظاہرین نے مطالبہ کیاکہ حکومت ہمیں کم از کم اجرت کے قانون کے مطابق ہی اجرت دے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے بغیر کسی معاوضے کے محکمہ تعلیم کو زمین عطیہ کی ہے تا کہ ہماری نوکری کو مستقل کیاجائے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا جس سے ہمیں شدیدمشکلات کا سامنا ہے۔ ایک خاتون نے بتایامیں گزشتہ ایک دہائی سے محکمے میں اس مید پر کام کر رہی ہوں کہ میری نوکری کو باقاعدہ بنایا جائے گا، لیکن ایسانہیں ہوا۔انہوں نے کہاکہ ہم معمولی اجرتوں پر کام کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے اپنی تنخواہیں واگزارکرنے اورملازمت مستقل کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ ان کی مشکلات کم ہوسکیں۔






