بھارت نام نہاد سکیورٹی کی آڑ میں اقلیتوں اور علاقائی حریفوں کو نشانہ بنارہاہے: تجزیہ کار

نئی دہلی: تجزیہ کاروں اور سیاسی مبصرین کا کہناہے کہ بھارت اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اور علاقائی حریفوں کو نشانہ بنانے کے لیے سیکورٹی کا بہانہ بنا رہا ہے اور اس طرح کے ہتھکنڈے فرقہ وارانہ تقسیم اور علاقائی عدم استحکام میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ خدشات اس وقت بڑھ گئے جب ایک بھارتی سوشل میڈیا صارف نے حساس فوجی تنصیبات خاص کر ہوائی اڈوں اورخلائی اور دفاعی اداروں سمیت اسٹریٹجک تنصیبات کے قریب روہنگیا اور بنگلہ دیشی تارکین وطن اور مبینہ انتہا پسندوں کے ہمدردوںکی موجودگی پر تشویش کا اظہارکیا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ ان دعووں کو قومی سلامتی کے سنگین بحران کے طور پر پیش کیا گیا جس کے لیے فوری کارروائی کی ضرورت ہے جبکہ راجستھان کے ایک واقعے کو جواز کے طور پر پیش کیا گیا۔ تاہم تجزیہ کاروں نے اس بیانیے کو کمزور کمیونٹیز کے خلاف جابرانہ کارروائیوں کو جائز قراردینے کے لیے غیر تصدیق شدہ خطرات کو بڑھا چڑھاکر پیش کرنے کا پرانا ہتھکنڈا قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ہندو قوم پرست حکومت نے بار بار روہنگیا پناہ گزینوں کو بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے قومی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دیا ہے، انہیں باربار انتہا پسندی یا غیر ملکی دہشت گردی سے جوڑاگیا جبکہ میانمار سے ان کی نقل مکانی کی وجوہات کو نظر انداز کیا گیا ۔تجزیہ کاروں نے خبردار کیا کہ اس طرح کی بیان بازی سے نفرت انگیز تقاریر، جبری گرفتاریوں اور ملک بدری کو ہوا دی جاتی ہے جس کا مقصد قومی سلامتی کی آڑ میں مسلمانوں کو قربانی کا بکرا بنا کر سیاسی فوائد حاصل کرناہے۔مبصرین نے خطے میں بھارت کی عدم استحکام کی سرگرمیوں کی طرف بھی اشارہ کیاہے جن میں ہمسایہ ممالک میں جاسوسی اور سائبر کارروائیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کلبھوشن یادو کے کیس کا حوالہ دیا جسے پاکستان میں جاسوسی اور دہشت گردسرگرمیوں کی سرپرستی کرنے پر سزا سنائی گئی تھی۔پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک میں بھارتی نیٹ ورکس کے سائبر حملوں کا بھی حوالہ دیاگیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کا سیکورٹی بیانیہ نقل مکانی، عسکریت پسندی، سائبر حملوں اور علاقائی انٹیلی جنس مقابلے سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات پر مبنی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اور سیکورٹی سے منسلک بیانیے میں اکثر شواہد کے بغیر ہی تارکین وطن کو ممکنہ خطرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے خاص طور پر جب وہ حساس تنصیبات کے قریب رہتے ہوں۔تجزیہ کاروں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے بیانیے سے نقل مکانی کو مزید غیر محفوظ بنانے اور اقلیتوں کی نگرانی کو مزید سخت کرنے کا خطرہ ہے جس سے سیکیورٹی پالیسی کو سیاسی بنانے اور علاقائی امن و استحکام پر اس کے سنگین اثرات کے بارے میں خدشات پیدا ہوتے ہیں۔






