بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود امریکہ ایران مذاکرات کے راستے کھلے ہیں: مسعود خان
اسلام آباد : آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوںسے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ممکن ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سردار مسعود خان نے ایک ٹی وی انٹرویومیں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات متضاد ہوسکتے ہیں لیکن وہ دباو اور اپنی بات منوانے کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ایران کو اپنی پسند کے معاہدے پر مجبور کرنے کے لیے مذاکرات کے دروازے کھلے چھوڑتے ہوئے فوجی دباو¿ میں اضافہ کر رہا ہے۔سردار مسعود خان نے کہا کہ ایران نے بھی اپنی دفاعی پوزیشن کو برقرار رکھتے ہوئے اسٹریٹجک تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بامعنی مذاکرات جبر کے ماحول میں خاص طور پر خلیجی خطے میں جاری بحری ناکہ بندی اور بڑھتی ہوئی فوجی تعیناتیوں میں شروع نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ باضابطہ مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے سے پہلے اعتماد سازی کے اقدامات ضروری ہیں۔پاکستان کے منفرد کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایسے وقت میں ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر سامنے آیاہے جب اقوام متحدہ اور اہم علاقائی ممالک کچھ نہیں کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی سفارتی کوششوں سے بڑے عالمی اسٹیک ہولڈرز کا اعتماد حاصل کیا ہے جس نے اسے بیک چینل روابط کو آسان بنانے اور کشیدگی میں کمی کے راستے تلاش کرنے کے قابل بنایا ہے۔مسعود خان نے کہا کہ موجودہ نازک صورتحال کو پائیدار امن کے راستے میں تبدیل کرنے کے لیے مسلسل کوششیں، صبر اور سیاسی عزم ضروری ہے۔








