بھارت

بھارت سارک کی بحالی اورقیام امن میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے: مقررین ویبنار

ویبنار میں تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے سہ فریقی مکالمے کی تجویزپیش کی گئی

Reviving SAARC: Regional Webinar Urges Fresh Push for Cooperation

نئی دہلی:  بھارت میں قائم سینٹر فار پیس اینڈ پروگریس کے زیر اہتمام ایک ویبنار کے شرکاءنے کہا ہے کہ بھارت سارک کی بحالی اورقیام امن میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق او پی شاہ کی زیر صدارت ویبنار کا مقصد جنوبی ایشیا میں مکالمے اور تعاون کو ازسرِ نو فروغ دیناتھا۔ویبنار میںممتاز سفارت کاروں اور پالیسی سازوں نے جنوبی ایشیا میں بڑھتے ہوئے معاشی دباو¿ اور ماحولیاتی خطرات کے پیش نظر جنوب ایشیائی تعاون تنظیم یعنی” سارک“ اور اس کی تجارتی شاخ ساو¿تھ ایشیا فری ٹریڈ ایگریمنٹ یعنی” سافٹا“ کی فوری بحالی پر زور دیا۔شرکاءنے خبردارکیا کہ بات چیت میں مزید تاخیر علاقائی خطرات کو مزید گہرا کر دے گی۔ شرکاءنے بھارت پرزوردیاکہ وہ یا تو سارک کو فعال کرنے میں مدد کرے یا دیگر ممالک کو آگے بڑھنے دے تاکہ خطے کو درپیش مسائل کا مشترکہ حل تلاش کیا جا سکے۔مقررین نے خبردار کیا کہ اگر یہ جمود برقرار رہا تو خطے کی کمزوریاں مزید نمایاں ہو جائیں گی۔ کچھ شرکاءنے ’سارک پلس چین‘فریم ورک کی تجویز بھی پیش کی تاکہ جنوبی ایشیا کو وسیع تر ایشیائی نیٹ ورکس کے ساتھ منسلک کیا جا سکے۔بنگلہ دیش کے سابق سفیر صوفی رحمان نے سارک کی ناکامیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کو وزارت خارجہ کے حد سے زیادہ کنٹرول سے آزاد کرنے اور اسے اکیڈمیا، تھنک ٹینکس اور سول سوسائٹی کے لیے کھولنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے چار دہائیوں پرانے سارک چارٹر پر نظر ثانی کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ اسے موجودہ تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ماہرین نے تعطل کا ذمہ دار بھارت کو ٹھہراتے ہوئے تجویز دی کہ دیگر رکن ممالک کو سارک اجلاس بلانے اور اس عمل کو بحال کرنے کے لیے اب خود پہل کرنی چاہیے۔سابق بھارتی وزیر اور سفارت کار منی شنکر ائیر نے بھارت کو امن عمل میں مرکزی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے تجویز پیش کی کہ اگر بھارت سارک اجلاسوں کو روکنا جاری رکھتا ہے تو باقی سات ممالک—پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا، بھوٹان، مالدیپ اور افغانستان—آزادانہ طور پر سافٹا کے نفاذ کی جانب بڑھیں اور ’خوشحالی کا ایک نیا دائرہ‘تشکیل دیں جو بالآخر بھارت کو دوبارہ شامل ہونے پر مجبور کرے۔سابق پاکستانی وزیر خرم دستگیر نے کہا کہ دنیا کے غریب ترین خطوں میں شمار ہونے والے جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کو مزید تاخیر کا شکار نہیں بنایا جا سکتا۔انہوں نے مضبوط مالیاتی روابط، سڑکوں، فضائی اور بحری نقل و حمل کے نظام میں بہتری پر زور دیا اور مشترکہ ماحولیاتی خطرات سے خبردار کیا جن میں بالائی سندھ طاس میں گلیشیئرز کا پگھلنا اور دہلی و لاہور کو متاثر کرنے والی فضائی آلودگی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ دہائیوں تک جاری رہنے والا سندھ طاس معاہدہ 2025 کے پہلگام واقعے کے بعد معطل ہو چکا ہے جو خطے کے لیے تشویشناک ہے۔مذاکرے میں میڈیا کے کردار اور امن کے عمل میں نوجوانوں کی شمولیت پر بھی زور دیا گیا۔ شرکاءنے مرکزی میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اکثر دشمنی کو ہوا دیتا ہے اور تناو¿ کو بڑھاتا ہے جبکہ نوجوان نسلیں سارک کی افادیت سے بڑی حد تک بے خبر ہیں۔پاکستانی کارکن طاہرہ عبداللہ نے علاقائی میڈیا چارٹر کی تجویز پیش کی اور نوجوانوں کو متحرک کرنے کے لیے مشترکہ ڈیجیٹل مواد کی تیاری پر زور دیا۔ انہوں نے امن کی تعمیر میں خواتین کے مرکزی کردار کی اہمیت اجاگر کی اور کشمیر کے حوالے سے ایک ’ سہ فریقی مکالمہ‘تجویز کیا جس میں کشمیری عوام کی آواز کو شامل کیا جائے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button