بھارت

یوٹیوبر کی ضمانت منظور، پاکستان سے روابط کا کوئی ثبوت نہیں

پاکستان کے خلاف بھارتی پروپیگنڈا ایک بار پھر بے نقاب

چندی گڑھ: پاکستان کے خلاف بھارتی پروپیگنڈے کواس وقت ایک بڑا دھچکہ لگا جب پنجاب اور ہریانہ کی ہائی کورٹ نے یوٹیوب بلاگر جسبیر سنگھ کی ضمانت منظور کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ پاکستانی شہریوں کے ساتھ روابط یا حساس معلومات کا تبادلہ ثابت نہیں ہوا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جسٹس ونود ایس بھاردواج نے ”جان محل“ نامی چینل چلانے والے بلاگر کو باقاعدہ ضمانت دیتے ہوئے کہاکہ درخواست گزار کے موبائل ڈیٹا کی جانچ پڑتال سے کسی پاکستانی شہری کے ساتھ ان کی بات چیت ، پیغام رسانی یاروابط ثابت نہیں ہوئے ۔ایف آئی آر میں جو 3 جون 2025 کو پنجاب کے ریاستی اسپیشل آپریشنز سیل نے موہالی میں درج کی تھی، الزام لگایا گیا تھا کہ جسبیرسنگھ نے متعدد بار پاکستان کا دورہ کیا اور آئی ایس آئی کے ساتھ رابطے میں تھا اوریوٹیوب چینل کی آڑ میں اسے بھارتی فوج کی نقل و حرکت کے بارے میں حساس معلومات فراہم کرتا تھا۔ تاہم عدالت نے کہاکہ اس کا اپ لوڈ کردہ مواد کسی بھی خاص مقام یا ممنوعہ چیز سے متعلق نہیں تھااورزیر بحث ویڈیوز ایسے مقامات اور موضوعات کے بارے میں ہیں جو عام لوگوں کے دسترس میںہیں۔جسٹس بھاردواج نے جسبیر کے سابقہ ریکارڈاور 3 جون 2025 کو گرفتاری کے بعد سے 10 ماہ کی نظربندی کا بھی نوٹس لیا۔ سینئر وکیل پی ایس اہلووالیہ اور ایڈوکیٹ دیپندر سنگھ ورک نے دلیل دی کہ یہ مقدمہ معمول کے سفر پر مبنی ویڈیو ”جان محل“ پر پوسٹ کرنے پر قائم کیاگیا ہے۔ہائی کورٹ کے فیصلے سے ایک بارپھر واضح ہوگیا کہ بھارتی ایجنسیاں کس طرح پاکستان اور آئی ایس آئی کے نام پر بغیرکسی ثبوت کے لوگوں کو نشانہ بنا رہی ہیں اور پاکستان کو بدنام کرنے اور اختلاف رائے کو دبانے کے لیے آفیشل سیکرٹ ایکٹ جیسے کالے قوانین کا استعمال کررہی ہیں۔ ضمانت کی منظوری سے پاکستان کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے کا ایک اور کیس ختم ہوگیا جس میں بغیر ثبوت کے الزامات لگائے گئے تھے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button