پاکستان

اقوامِ متحدہ بھارت کومقبوضہ جموں و کشمیر میں تعلیمی و مذہبی اداروں کو نشانہ بنانے سے روکے : الطاف وانی

اسلام آباد: کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (KIIR) کے چیئرمین الطاف حسین وانی نے اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے مذہبی آزادی نازیلا غنیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں تعلیمی اور مذہبی اداروں کے خلاف جاری منظم اور امتیازی کارروائیوںکا فوری نوٹس لیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق الطاف وانی نے قوامِ متحدہ کو ارسال کیے گئے ایک تفصیلی مراسلے میں جامعہ سراج العلوم کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون کے تحت غیر قانونی قرار دینے پر گہری تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے اسے جابرانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں تقریباً ایک ہزار طلباءکی تعلیم اچانک منقطع ہو گئی جنہیں تعلیمی سیشن کے دوران ادارہ خالی کرنے اور اپنی پڑھائی ترک کرنے پر مجبور کیاگیا۔انہوں نے کہا کہ جامعہ سراج العلوم کئی دہائیوں سے ایک معتبر تعلیمی ادارہ رہا ہے جس نے ڈاکٹرز، علما اور آئی ٹی ماہرین سمیت ایسے افراد تیار کیے ہیں جو معاشرے میں مو¿ثر خدمات انجام دے رہے ہیں۔مراسلے میں کہاگیا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ ا±ن پالیسی اقدامات کے تسلسل کا حصہ ہے جن کے ذریعے ا±ن اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو غریب اور پسماندہ طبقات کو تعلیمی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ الطاف وانی نے کہاکہ2019 کے بعد سے فلاحِ عام ٹرسٹ سے منسلک سینکڑوں اسکولوں اور کالجوں کو بھی کالے قانون کے تحت بند کیا جا چکا ہے جس کے اثرات بالخصوص معاشی طور پر کمزور طبقات پر مرتب ہوئے ہیں۔مراسلے میں کہا گیا کہ نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (NCERT) سے ہم آہنگ نصاب کے بعد خطے کے تعلیمی نظام میں نمایاں بنیادی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن کے دور رس اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔انہوں نے بین الاقوامی معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے جن میں مذہبی تعلیم کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے، اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ پر زور دیا کہ وہ بھارتی حکام سے مطالبہ کریں کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں اداروں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ فوری طور پر بند کرے، آئینی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی پاسداری اور مذہب، عقیدہ اور تعلیم کی آزادی کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے اور ایسے اقدامات واپس لے جو طلباءکی تعلیم اور تعلیمی تسلسل کو متاثر کر رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ اداروں کی مسلسل بندش اور سرکاری تحویل میں لینے سے نہ صرف بنیادی آزادیاں مجروح ہوتی ہیں بلکہ ہزاروں طلباءکا تعلیمی مستقبل شدید خطرات سے دوچار ہوتا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button